بنگلہ دیش بھارت سرحد پر محصور علاقے

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 21 مارچ 2013 ,‭ 13:10 GMT 18:10 PST
  • بنگلہ دیش اور بھارت کی سرحد پر بنگلہ دیش میں سو کے قریب بھارتی علاقے ہیں جبکہ اسی طرح بھارت میں پچاس سے زیادہ بنگلہ دیشی محصور علاقے ہیں۔ یہ علاقے متنازع رہے ہیں اور یہاں کے لوگوں کو غیر یقینی صورتِ حال کا سامنا ہے۔ 2,400 کلو میٹر کے اس سرحد پر اکثر مقامات پر خاردار تار لگائی گئی ہیں۔
  • لیکن سرحد کے بعض حصوں کی واضح طور پر حد بندی نہیں کی گئی ہے جس کی وجہ سے بہت ابہام ہے۔اس تصویر کے دائیں جانب دکھائی دینے والا سفید پتھر بھارت اور بنگلہ دیش کی سرحد کا واحد نشان ہے۔
  • وہ لوگ جو محصور بھارتی علاقوں میں رہتے ہیں انہیں بھارتی شہری سمجھا جاتا ہے۔ اس تصویر میں ہندوستانیوں کا ایک گروپ ہندوستان کی سرزمین پر کھڑے ہیں جو تصویر میں دائیں طرف دکھائی دیتی ہے۔ لیکن اگر یہ لوگ یہ تصویر کے بائیں جانب جاتے ہیں تو بنگلہ دیش میں داخل ہونگے جو کہ غیر قانونی ہے
  • یہ محصورہ علاقے 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے وقت بنے تھے۔ خشکی سے گھرے اس علاقے میں زندگی گزارنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ یہاں پر کوئی بجلی، سڑک، سکول، ہسپتال یا کسی قسم کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ اس تصویر میں ایک بچہ پلاسٹک کے گلاس کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔
  • بہت سے محصور علاقوں کے لوگ اپنے بچوں کو جعلی شناخت کے ساتھ غیر قانونی طور پر سکول بھیجتے ہیں۔ دونوں اطراف کے باشندوں کا کہنا ہے کہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ انہیں ان کے ممالک نے ترک کر کے اکیلا چھوڑ دیا ہے۔
  • ان محصور علاقوں کو ’چیٹ محل‘ بھی کہا جاتا ہے۔اور یہاں پر زیادہ تر لوگوں کی زندگی کا دورومدار زراعت پر ہے۔ اس تصویر میں ایک گائے بنگلہ دیش کے محصور علاقے میں چر رہی ہے۔
  • منصور علی جس کی تصویر ان کے گھر میں لی گئی ہے محصور علاقوں میں رہنے والوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں کہ ’2011 میں مردم شماری ہوئی تھی۔اس کی بنیاد پر ہمیں شہریت کیوں نہیں ملی؟‘ انہیں اپنے پچپن کے دن یاد ہیں جب وہ اچانک ایک دوسرے ملک کے شہری بن گئے جبکہ باقی کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا۔
  • محصور علاقوں میں سب سے زیادہ اہم فصل پٹ سن کی ہے اور یہاں رہنے والے زیادہ تر لوگ کاشت کاری کر کے گزر اوقات کرتے ہیں
  • دلی اور ڈھاکہ نے 2011 میں متنازع علاقوں کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک معاہدہ کیا تھا جس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ ان علاقوں کے لوگوں کو جو ملک پسند ہو اس کی شہریت دی جائے گی۔ لیکن اس معاہدے پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے۔
  • اکیاسی سالہ سادنہ چکرورتی صرف بھارت کی شہری کی حیثیت سے پہچان چاہتی ہیں اور کچھ نہیں وہ اور ان کی دو بہوئیں مٹی کے چولہے پر کھانا پکاتی ہیں کیونکہ اس علاقے میں گیس نہیں ہے۔ ان کے دو بیٹے فوت ہو چکے ہیں اور یہ تینوں عورتیں مشکل سے زندگی گزارتی ہیں۔
  • ان محصور علاقوں میں روزانہ کی زندگی بہت مشکل ہوتی ہے۔ یہاں پر بجلی نہیں ہے اور رات کو لوگ لالٹین اور موم بتیاں جلاتے ہیں۔
  • حکام کے مطابق ان محصور علاقوں میں تقریباً پچاس ہزار سے زیادہ افراد آباد ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ غیر سرکاری طور پر یہاں کے لوگوں کی تعداد اِس کی دْگنی ہے۔ اس تصویر میں محمد شاہ جمال شیخ رات کی تاریکی میں گھر لوٹ رہے ہیں۔

ملٹی میڈیا

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔