پیر پندرہ اپریل کا سیربین

پیر پندرہ اپریل کو نشر ہونے والے بی بی سی اردو سروس کے ٹی وی پروگرام سیربین کے چاروں حصے آپ اس صفحے پر دیکھ سکتے ہیں۔ یہ پروگرام ایکسپریس نیوز پر نشر کیا گیا تھا۔

سیربین ہفتے میں تین دن یعنی پیر، بدھ اور جمعے کو پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق رات گیارہ بجے ایکسپریس نیوز پر نشر ہوتا ہے۔

انتخابات میں خواتین ووٹرز کی شرکت

پاکستان ميں انتخابی عمل کی نگرانی کرنے والے غير سرکاري ادارے فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک يعني فيفن کی رپورٹ کے مطابق دو ہزار آٹھ کے اتنخابات کے دوران ملک بھر میں 564 پولنگ سٹیشن ایسے تھے جن میں کسی ایک خاتون نے بھی اپنا حقِ رائے دہي استعمال نہیں کیا يا اُنہيں کرنے نہيں ديا گيا۔

اس حوالے سے دیکھیے اہم اعدادوشماراور اس کے بعد نامہ نگار شمائلہ جعفری کی رپورٹ جس میں وہ ايسے ہي کچھ علاقوں ميں گئيں اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ اب وہاں خواتین ووٹرز کے ليے صورتحال کیسی ہے۔

عوامي نيشنل پارٹي بھي کچھ علاقوں ميں ايسے معاہدوں ميں شامل رہي ہے جن کے ذريعے دو ہزار آٹھ کے انتخابات کے دوران خواتين کو ووٹ ڈالنے سے روکا گيا۔ اس حوالے سے عوامی نیشنل پارٹی کے ترجمان سينيٹر زاہد خان سے خصوصی گفتگو بھی اسی حصے میں شامل ہے۔

اس کے بعد دیکھیے سوشل میڈیا پر آنے والی آپ کی آراء۔

عالمی خبریں، اسلامی ثقافت کا شہر غزنی اور پاکستان کی سکھ برادری

اس حصے میں پہلے شامل ہیں عالمی خبریں۔

بی بی سی نے اپنا وہ پینوراما پروگرام نشر نہ کرنے سے انکار کر دیا ہے جس میں شمالی کوریا کی خفیہ فلمبندی کی گئی ہے۔ بی بی سی پر یہ تنقید کی جا رہی ہے کہ اس پروگرام کے نشرہونے سے لندن سکول آف اکنامکس کے ان طالبِ علموں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی تھیں جو اس سفر میں بی بی سی کے نمائندے کے ساتھ تھے۔ بی بی سی کا کہنا ہے کہ اس فلم کے بنانے میں عوام کي کافي دلچسپی ہے اور طالبِ علموں کو اس کے خطرات سے آگاہ کر دیا گیا تھا۔

اس کی تفصیل عارف شمیم کی رپورٹ میں جس کے بعد شامل ہیں مزید عالمی خبریں۔

اس کے بعد دیکھیے کہ اسلامی تعاون کی تنظیم نے افغانستان کے قدیم شہر غزنی کو اسلامی ثقافت کا ایشیائی شہر قرار دیا ہے۔ غزنی کے تاریخی مقامات کو سیاحوں کے لیے بحال کیا جائے گا لیکن سکیورٹی ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔

تفصیل سنیے ہارون رشید کی زبانی۔

آخر میں شامل ہے نامہ نگار صبا اعتزاز کی رپورٹ جنہوں نے پاکستان میں موجود سکھ برادری میں بڑھتے ہوئے عدم تحفظ کا جائزہ لیا ہے۔

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا مسئلہ

بلوچستان سے گزشتہ دس سالوں میں کئی سو لوگ لاپتہ ہوئے، جبری گمشدگیوں کی تحقیقات کے لیے کمیشن بھی قائم ہے، سپریم کورٹ بھی ان مقدمات کی سماعت کر رہا ہے۔ اس کے باوجود لوگوں کی جبری گمشدگی اور مسخ شدہ لاشیں ملنے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو بھی ان سوالات کا جواب دینا پڑ رہا ہے، لیکن کیا بلوچستان میں آنے والی حکومت ان واقعات کو روک پائےگی؟

اس حوالے سے دیکھیے کوئٹہ سے ریاض سہیل کی رپورٹ۔

اسي موضوع پر مزيد بات کرنے کے ليے سٹوڈیو میں موجود تھے بی بی سی اردو کے سربراہ عامر احمد خان۔

سب سے آخر میں اسی حوالے سے آپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر آنے والی آراء بھی پروگرام کے اسی حصے میں شامل ہیں۔

بزنس

اس حصے میں شامل ہوتا ہے ہفتہ وار سلسہ ’بزنس‘۔

پاکستان ميں ان دنوں انتخابات کا دور دورہ ہے۔ اليکشن کے ہي حوالے سے ملک کي دو بڑي جماعتيں پيپلز پارٹي اور نواز مسلم ليگ ايک دوسرے کے خلاف الزام تراشی کا سلسلہ جاري رکھے ہوئے ہيں اور الزامات کے اس تبادلے کا ايک بڑا موضوع ہے پاکستان ميں بجلي کا موجودہ بحران۔

نواز ليگ کے بقول پيپلز پارٹي کے پچھلے پانچ برس نے صوبۂ پنجاب کو اندھيروں ميں دھکيل ديا ہے تو جواب ميں پيپلز پارٹي کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران کي جڑيں نواز شريف کي پچھلي حکومتوں کے اپنے اقدامات ہيں۔

اس حوالے سے دیکھیے خرم حسين کي رپورٹ۔

اسی بارے میں