اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

بدھ سترہ اپریل کا سیربین، حصۂ سوم

گذشتہ کئی مہینوں سے نجی نیوز چینلز کی ریٹنگز گر رہی ہیں۔ نیوز چینلز اور اینکرز ریٹنگز کے نظام کو قابلِ اعتماد نہیں سمجھتے، لیکن ساتھ ساتھ، ان کو بڑھانے کے لیے خبروں اور ٹاک شوز میں سنسنی اور مصالحہ بھی ڈالتے ہیں۔ ان چینلز کی آمدن ناظرین کی فیس پر نہیں بلکہ ریٹنگز سے تعین کی گئی اشتہارات سے بنتی ہیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ پاکستان میں آنے والے انتخابات سے ناظرین دوبارہ ان چینلز کی جانب متوجہ ہوں گے۔ عنبر شمسی کی رپورٹ

ميڈيا کا کردار آنے والے انتخابات ميں کافي اہم ہے۔ اسي تناظر ميں اب سے کچھ دير پہلے ميں نے روزنامہ ڈان کے ايڈيٹر ظفر عباس سے بات کے اور ان سے پوچھا کہ ميڈيا رئيليٹي يا زميني حقائق کي عکاسي کرتا ہے۔ ٹاک شوز کس حد تک ايسا کرنے ميں کامياب ہو رہے ہيں؟

سب سے آخر میں دیکھیے آپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر آنے والی آپ کی آراء۔