پیر بائیس اپریل کا سیربین

پیر بائیس اپریل کو نشر ہونے والے بی بی سی اردو سروس کے ٹی وی پروگرام سیربین کے چاروں حصے آپ اس صفحے پر دیکھ سکتے ہیں۔ یہ پروگرام ایکسپریس نیوز پر نشر کیا گیا تھا۔

سیربین ہفتے میں تین دن یعنی پیر، بدھ اور جمعے کو پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق رات گیارہ بجے ایکسپریس نیوز پر نشر ہوتا ہے۔

پاکستانی انتخابات میں نئے چہرے

پاکستان میں آئندہ انتخابات تبدیلی بمقابلہ جمود کی بنیاد پر لڑے جا رہے ہیں۔ تبدیلی کا نعرہ سب لگاتے ہیں مگر عوامی تاثر کے مطابق اس وقت پاکستان تحریکِ انصاف کو تبدیلی اور انقلاب سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ تبدیلی کی علامت کے طور پر تحریکِ انصاف نے اسی فیصد ایسے افراد کو پارٹی ٹِکٹ جاری کیے ہیں جو ماضی میں کبھی بھی میدانِ سیاست کے کھلاڑی نہیں رہے۔ لیکن کیا یہ نئے چہرے روایتی سیاستدانوں کے آبائی حلقوں میں اپنی جگہ بنا سکیں گے؟

دیکھیے لاہور سے شمائلہ جعفری کی رپورٹ

اسي بارے ميں کراچي ميں پاکستان پيپلز پارٹي کے سينئير رہنما تاج حيدر سے خصوصی گفتگو اس حصے میں شامل ہے۔

اس کے بعد دیکھیے سوشل میڈیا پر آنے والی آپ کی آرا۔

عالمی خبریں، سیاسی جماعتوں کی تشہیری مہم

اس حصے میں شامل ہیں عالمی خبریں جن میں سب سے پہلے دیکھیے گا بی بی سی کو ملنے والی ایک ویڈیو فوٹیج جس میں بودھ بھکشوؤں کو مسلمانوں پر حملے کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ اس کی تفصیل خدیجہ عارف سے

اسی حصے میں شامل ہے بوسٹن دھماکوں ميں ملوث دو بھائیوں کے حوالے سے داغستان سے ڈینیئل سینڈفورڈ کی رپورٹ جاوید سومرو کی زبانی۔

آخر میں دیکھیے کہ دہشت گردی اور شدت پسندی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے انتخابات کے لیے سیاسی جماعتیں اور امیدوار تشہیر کے لیے مختلف طریقے اپنا رہے ہیں جن سے ووٹر بھی خوش رہیں اور امیدوار کا پیغام بھی عوام تک پہنچ جاتا ہے۔ مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما جلسوں کی نسبت تشہیری مواد پر زیادہ توجہ دیں گے۔ پشاور سے عزیزاللہ خان کی رپورٹ

صوبہ سندھ میں شدت پسندی

پاکستان کے صوبۂ سندھ کے اندرونی علاقوں کا تاثر ایک نسبتاً لبرل رویے اور ترقی پسند سوچ کا رہا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے ایسے واقعات کی تعداد بڑھتی دکھائی دی ہے جن میں مذہبی یا فرقہ ورانہ اختلاف کی بناء پر تشدد آمیز کارروائیاں کی گئی ہوں۔ تو کیا اب یہ سوچ تبدیل ہو رہی ہے؟ کیا مذہبی شدت پسندی اب وہاں بھي اپنے پنجے گاڑ رہی ہے؟

اس پر دیکھیے ریاض سہیل کی رپورٹ۔

اسي موضوع پر مزيد بات کرنے کے ليے کراچي سے تجزيہ کار بيرسٹر شہاب اوستو پروگرام میں شامل تھے۔

سب سے آخر میں دیکھیے آپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر آنے والی آپ کی آرا۔

بزنس

اس حصے میں شامل ہوتا ہے ہفتہ وار سلسہ ’بزنس‘۔

پاکستان ميں جيسے جيسے اليکشن کا وقت قريب آتا جارہا ہے، ويسے ويسے ہر طبقۂ فکر اور ہر شعبے کے لوگ اس کوشش ميں ہيں کہ اپني حمايت کي عوض اپنے ليے زيادہ سے زيادہ مراعات نہيں تو مراعات کي يقين دہانياں حاصل کرليں۔ کاروباري اور تجارتي طبقہ اس کي ايک بڑي مثال ہے۔ سياسي جماعتوں کے منشور اور پروگرام ميں کيا چيزيں اور وعدے ان لوگوں کے ليے اہم ہيں، اسي کا جائزہ ليا ہے معيشت پر ہمارے ہفتے وار سلسلے ميں خرم حسين نے۔

اسی بارے میں