پنجاب:پیپلزپارٹی اور ق لیگ کی سیٹ ایڈجسٹمنٹ

Image caption این اے ایک سو پانچ گجرات میں مسلم لیگ ق کے چوہدری پرویز الٰہی اور پیپلزپارٹی کے احمد مختار کے درمیان دلچسپ مقابلہ ہوگا

پاکستان میں سنیچر کے روز ہونے والے عام انتخابات کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ق کے درمیان پنجاب میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے نتیجے میں پیپلز پارٹی نے پنجاب میں مسلم لیگ ق کے لیے قومی اسمبلی کی چوبیس نشستیں چھوڑ دی ہیں۔

دونوں جماعتوں کے درمیان یہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ وفاقی دارالحکومت سمیت پنجاب میں راول پنڈی ، اٹک ، چکوال، سرگودھا ، خوشاب ، لاہور ، فیصل آباد ، گوجرانوالہ ، میانوالی ، ساہیوال ، لیہ ، وہاڑی ، پاکپتن ، بہاولپور اور بہاولنگر کے اضلاع میں کی گئی ہے جبکہ گجرات ،جہلم ،مظفرگڑھ ، رحیم یار خان اور حافظ آباد میں بھی ایک ایک نشست پر ایڈجسٹمنٹ ہوئی ہے۔

مسلم لیگ ق نے پنجاب میں قومی اسمبلی کی ایک سو اڑتالیس میں سے صرف اٹھائیس نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں جبکہ آٹھ نشستوں پر وہ آزاد امیدواروں کی حمایت کر رہی ہے۔ ادھر پیپلزپارٹی نے پنجاب میں قومی اسمبلی کی ایک سو سترہ نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں۔

یاد رہے کہ دو ہزار آٹھ میں ہونے والے عام انتخابات میں مسلم لیگ ق نے پنجاب میں ایک سو اڑتیس نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے تھے جن میں سے صرف اٹھائیس پر اسے کامیابی ملی تھی جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی کے ایک سو چالیس امیدواروں میں سے چوالیس کامیاب ہوئے تھے۔

اس سے قبل دو ہزار دو میں مسلم لیگ ق نے جسے اس وقت کے فوجی صدر پرویز مشرف کی حمایت حاصل تھی پنجاب میں ایک سو اکتیس نشستوں پر امیدوار میدان میں اتارے تھے جن میں سے اڑسٹھ کامیاب ہوئے۔ اس برس پیپلز پارٹی ایک سو چھتیس امیدواروں کو میدان میں لائی تھی جن میں سے چونتیس نشست جیتنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

دو ہزار دو میں پاکستان پیپلزپارٹی کو پنجاب میں ڈالے گئے ووٹوں کا تقریباً چھبیس فیصد ملا تھا جبکہ 2008 میں اس شرح میں دو فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا تھا۔ اس کے برعکس دو ہزار دو میں پنجاب میں 34 فیصد ووٹ حاصل کرنے والی مسلم لیگ ق 2008 میں انتیس فیصد ووٹ ہی حاصل کر سکی۔

ان دونوں جماعتوں کے درمیان بڑے پیمانے پر اتحاد سے نتائج میں فرق پڑ سکتا ہے تاہم یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ انتخابات میں ق لیگ کے ٹکٹ پر جیتنے والے امیدواروں کی اکثریت اب ق لیگ چھوڑ چکی ہے اور ان میں سے کئی اب ن لیگ کی جانب سے انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔

دونوں جماعتوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے باوجود پنجاب میں کچھ نشستیں ایسی بھی ہیں جہاں ان دونوں جماعتوں کے امیدوار مدِمقابل ہیں۔

ان میں سب سے دلچسپ مقابلہ این اے ایک سو پانچ گجرات میں مسلم لیگ ق کے چوہدری پرویز الٰہی اور پیپلزپارٹی کے احمد مختار کےدرمیان ہے۔ یہ نشست دوہزار آٹھ میں احمد مختار نے تقریباَ َ چودہ ہزار ووٹوں سے جیتی تھی جب انہوں نے چوہدری شجاعت حسین کو شکست دی تھی جبکہ دو ہزار دو میں چوہدری شجاعت حسین نے احمد مختار کو ہرادیا تھا۔

دوسرا دلچسپ مقابلہ این اے ایک سو چورانوے رحیم یار خان میں سابق وفاقی وزیر مخدوم شہاب الدین اور سابق وزیرِ مملکت مخدوم خسرو بختیار کے درمیان ہے ۔ خسرو بختیار آزاد حیثیت سے انتخاب لڑ رہے ہیں تاہم انہیں ق لیگ کی حمایت حاصل ہے۔

اسی بارے میں