اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

جمعہ سترہ مئی کا سیربین، حصۂ اول

پاکستان کے صوبۂ خیبر پختونخواہ میں تحریکِ انصاف کی قیادت میں مخلوط حکومت بننے والي ہے۔ تحریکِ انصاف کہتی ہے کہ وہ ایک مثالي حکومت ثابت ہو گی۔ تمام نظریں اب تحریکِ انصاف پر ہیں کہ وہ نئے چہروں کے ساتھ خیبر پختونخوا میں ووٹروں سے کیے گئے انتخابی وعدے پورے کر بھي پائے گی؟ شائد اسي ليے خیبر پختونخواہ کو تحریکِ انصاف کے لیے ايک ٹیسٹ کیس کہا جارہا ہے۔

دیکھیے پشاور سے نامہ نگار عزیزاللہ خان کي رپورٹ۔

حاليہ انتخابات ميں پاکستان تحريکِ انصاف نے پورے ملک مں ووٹ حاصل کيے خاص طور پر خيبر پختون خوا ميں يہ سب سے بڑي جماعت کے طور پر ابھري ہے اور صوبے ميں اپني حکومت بنانے کي تياري ميں ہے۔

نئے وزيرِ اعلي کے طور پر پارٹي کے رہنما پرويز خٹک کا نام سامنے آيا ہے۔ تريسٹھ برس کے پرويز خٹک کا آبائي علاقہ اور انتخابي حلقہ نوشہرہ ہے۔

انہوں نے سياست کا آغاز پاکستان پيپلز پارٹي سے کيا۔ ليکن بعد ميں جب آفتاب شيرپاؤ نے پارٹي سے الگ ہو کر پاکستان پيپلز پارٹي شيرپاؤ گروپ کے نام سے اپني سياسي جماعت بنائي تو وہ اُس ميں شامل ہو گئے۔ بعد ميں اس جماعت کا نام قومي وطن پارٹي رکھا ديا گيا۔ جبکہ گزشتہ برس عمران خان کي پاکستان تحريکِ انصاف ان کي منزل ٹھہري۔

پرويز خٹک کو سياست اور حکومت کا وسيع تجربہ ہے۔ وہ پانچ مرتبہ صوبائي اسمبلي کے رکن منتخب ہو چکے ہيں۔ جبکہ دو مرتبہ صوبائي وزيرِ صنعت اور ايک مرتبہ وزيرِ آب پاشي رہ چکے ہيں۔

نامہ نگار عزیزاللہ خان نے پرویز خٹک سے خصوصي انٹرويو ميں ان کی متوقع صوبائي حکومت کو درپيش چيلنجز اور ان کے حل کا پوچھا۔

سب سے آخر میں دیکھیے سوشل میڈیا پر آنے والی آپ کی آراء۔