جمعہ سترہ مئی کا سیربین

جمعہ سترہ مئی کو نشر ہونے والے بی بی سی اردو سروس کے ٹی وی پروگرام سیربین کے چاروں حصے آپ اس صفحے پر دیکھ سکتے ہیں۔ یہ پروگرام ایکسپریس نیوز پر نشر کیا گیا تھا۔

سیربین ہفتے میں تین دن یعنی پیر، بدھ اور جمعے کو پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق رات گیارہ بجے ایکسپریس نیوز پر نشر ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ سیربین بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر لائیو نشر کیا جاتا ہے۔

خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی مخلوط حکومت ایک ٹیسٹ کیس

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے صوبۂ خیبر پختونخواہ میں تحریکِ انصاف کی قیادت میں مخلوط حکومت بننے والي ہے۔ تحریکِ انصاف کہتی ہے کہ وہ ایک مثالي حکومت ثابت ہو گی۔ تمام نظریں اب تحریکِ انصاف پر ہیں کہ وہ نئے چہروں کے ساتھ خیبر پختونخوا میں ووٹروں سے کیے گئے انتخابی وعدے پورے کر بھي پائے گی؟ شائد اسي ليے خیبر پختونخواہ کو تحریکِ انصاف کے لیے ايک ٹیسٹ کیس کہا جارہا ہے۔

دیکھیے پشاور سے نامہ نگار عزیزاللہ خان کي رپورٹ۔

خیبر پختونخوا کے نئے وزيرِ اعلي کے طور پر تحریک انصاف کے رہنما پرويز خٹک کا نام سامنے آيا ہے۔ تريسٹھ برس کے پرويز خٹک کا آبائي علاقہ اور انتخابي حلقہ نوشہرہ ہے۔

انہوں نے سياست کا آغاز پاکستان پيپلز پارٹي سے کيا۔ ليکن بعد ميں جب آفتاب شيرپاؤ نے پارٹي سے الگ ہو کر پاکستان پيپلز پارٹي شيرپاؤ گروپ کے نام سے اپني سياسي جماعت بنائي تو وہ اُس ميں شامل ہو گئے۔ بعد ميں اس جماعت کا نام قومي وطن پارٹي رکھا ديا گيا۔ جبکہ گزشتہ برس عمران خان کي پاکستان تحريکِ انصاف ان کي منزل ٹھہري۔

پرويز خٹک کو سياست اور حکومت کا وسيع تجربہ ہے۔ وہ پانچ مرتبہ صوبائي اسمبلي کے رکن منتخب ہو چکے ہيں۔ جبکہ دو مرتبہ صوبائي وزيرِ صنعت اور ايک مرتبہ وزيرِ آب پاشي رہ چکے ہيں۔

نامہ نگار عزیزاللہ خان نے پرویز خٹک سے خصوصي انٹرويو ميں ان کی متوقع صوبائي حکومت کو درپيش چيلنجز اور ان کے حل کا پوچھا۔

سب سے آخر میں دیکھیے سوشل میڈیا پر آنے والی آپ کی آراء۔

عالمی خبریں، کیا پاکستان کے زرمبادلہ کے زخائر

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

اس حصے میں شامل تھیں عالمی خبریں جن میں سب سے پہلے شامل تھی خبر بنگلہ دیش سے جہاں ایک کپڑے کی فیکٹری کی عمارت منہدم ہونے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد اب گیارہ سو سے زیادہ ہو چکی ہے۔ اس کے بعد شامل کی گئی مزید خبریں جن میں امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق روس نے شام کو انٹی شپ کروز میزائیل بھیجے ہیں۔ نائجیریا کی فوج کے مطابق انہوں نے اسلامی شدت پسند بوکو حرام کے کیمپس پر دوسرے دن بھی حملے جاری رکھے۔ اور یروشلم میں ہزاروں کی تعداد میں انتہائی قدامت پسند یہودیوں نے اسرائیلی فوج کے دفتر کے باہر احتجاج اور مظاہرے کیے۔

اسی طرح برطانيہ ميں کیئر فرٹيلٹی گروپ کے سائنسدانوں کے مطابق ايمبريو کے پنپتے وقت لمحہ بہ لمحہ تصاویر لینے کے طریقے سے مصنوعی حمل يعني ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

اس کی تفصيلی رپورٹ نوشين عباس سے۔

آخر میں دیکھیے کہ پاکستان کی کاروباری طبقے میں یہ تشویش ہے کہ پاکستان کے زرِمبادلہ کے ذخائر گر رہے ہيں اور اگر یہ صورتحال جاری رہي تو پاکستان کو ایک مرتبہ پھر آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے گا۔ بی بی سی کے نامہ نگار خرم حسین نے سابق وزير خزانہ اور مسلم ليگ نواز کے سیکرٹری جنرل سرتاج عزیز سے بات کی۔

اس کے بعد دیکھیے خرم حسین سے گفتگو جو لاہور سے براہِ راست پروگرام میں شریک تھے۔

پی پی پی کی انتخابات میں شکست

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

انتخابات کے دوران ہر مرتبہ کوئی نہ کوئی غير متوقع اور حیران کن نتائج سامنے آتے ہیں لیکن گیارہ مئی کو ہونے والے انتخابات میں سابقہ حکمران جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کو جو شکست ہوئی وہ پییپلزپارٹی کے مخالفین کے لیے بھی غیر متوقع تھی۔

واحد قومی جماعت ہونے کا دعوٰی کرنے والی پیپلزپارٹی حالیہ انتخابات میں اندرون سندھ تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

اس انتخابي ناکامي کی کیا وجوہات رہیں اور قومی سطح پر دوبارہ ابھرنے کے لیے پیپلزپارٹی کو کن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دیکھیے لاہور سے بی بی سی کی نامہ نگار شمائلہ جعفری کی رپورٹ

انتخابات کے بعد پيپلز پارٹي کا ووٹ بينک بري طرح متاثر ہوا ہے۔ پيپلز پارٹي کي ناکامي کے اسباب جاننے کے ليے دیکھیے اس حصے میں پيپلزپارٹي کے رہنما اعتزاز احسن سے گفتگو جن کا کہنا ہے کہ يہ پارٹي کے ليے لمحہ فکريہ ہے۔

سب سے آخر میں اسی حوالے سے سوشل میڈیا پر آنے والی آپ کی آرا۔

’تو پھر چلیں‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

اس ہفتے سے وسعت اللہ خان کا سفر دوبارہ سے شروع کیا جا رہا ہے جو ’تو پھر چلیں‘ کے عنوان سے اب ہر جمعے کو سیربین میں شامل کیا جائے گا۔

ڈیرہ اسماعیل خان اگرچہ جغرافیائی لحاظ سے صوبہ خیبر پختون خواہ میں شامل ہے لیکن یہاں اتنے لساني، ثقافتی اور تاریخی رنگ ہیں کہ ڈیرہ نہ تو پنجاب کے زیرِاثر لگتا ہے نہ ہی روایتی پشتون رنگ اس پر چڑھ سکا ہے۔ ڈیرے کا اپنا ہی رنگ ڈھنگ ہے۔ وسعت اللہ خان نے انہی رنگوں کو دیکھنے کے لئے وہاں کا رخ کیا۔

تو پھر چلیں۔

اسی بارے میں