اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

بدھ بائیس مئی کا سیربین، حصۂ اول

روزانہ کي طرح آج بھي بعض دیہی علاقوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بیس گھنٹے سے بھی زائد ہو چکا ہے۔

مسلم لیگ نواز ایسے وقت میں حکومت بنانے جا رہی ہے جب پاکستان میں بجلی کا بحران اپنے عروج پر ہے۔ ملک ميں بجلي کي طلب 19000 ميگا واٹ ہے جبکہ پيداوار صرف 10000 سے 12000 ميگا واٹ ہے۔ طلب اور رسد کا نتيجہ بارہ بارہ گھنٹے لوڈشيڈنگ کي وجہ 6000 سے 7000 ميگاواٹ کي کمي ہے۔ يہي نہيں بلکہ اس سيکٹر کا 500 ارب روپے کا سرکيولر ڈيٹ بھي ايک بہت بڑا مسئلہ ہے۔

متوقع وزیراعظم نواز شریف نے بجلی کی لوڈشیڈنگ کو فوری طور پر کم کرنے کے عزم کا اعلان بھی کیا ہے۔ مگرکیا پاکستان میں بجلی کے بحران کا کوئی فوری حل موجود ہے۔ یہی جاننے کی کوشش کی ہے نامہ نگار ارم عباسی نے

کچھ مبصرين کے مطابق اگر مزيد بيس پچيس دن ميں حالات بہتر نہ ہوئے تو لوگ سڑکوں پر آجائيں گے۔ اس موضوع پر مزید بات کرنے کے لیے نامہ نگار ارم عباسي اسلام آباد سے براہ راست پروگرام میں شامل تھیں۔

سب سے آخر میں دیکھیے سوشل میڈیا پر آنے والی آپ کی آراء۔