جمعہ چوبیس مئی کا سیربین

جمعہ چوبیس مئی کو نشر ہونے والے بی بی سی اردو سروس کے ٹی وی پروگرام سیربین کے چاروں حصے آپ اس صفحے پر دیکھ سکتے ہیں۔ یہ پروگرام ایکسپریس نیوز پر نشر کیا گیا تھا۔

سیربین ہفتے میں تین دن یعنی پیر، بدھ اور جمعے کو پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق رات گیارہ بجے ایکسپریس نیوز پر نشر ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ سیربین بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر لائیو نشر کیا جاتا ہے۔

صدر اوباما کی ڈرون حملوں پر تقریر

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

امریکی صدر براک اوباما کے تئیس مئی کے اس بيان کي پاکستان نے تعريف کي ہے جس ميں انہوں نے کہا کہ ’محض طاقت کا استعمال انہیں محفوظ نہیں بنا سکتا‘۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے صدر اوباما کی تقریر کے ردعمل ميں اپنا موقف دہرایا ہے کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جامع پالیسی کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب حالیہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز نے کہا ہے کہ وہ مایوس ہیں کہ صدر اوباما نے یہ نہیں کہا کہ وہ ڈرون حملوں کے سلسلے میں حکومتِ پاکستان سے مشاورت کریں گے۔

دیکھیے اسلام آباد سے ہارون رشید کی رپورٹ۔

اسي تناظر ميں بات کرنے کے ليے سٹوڈيو ميں موجود تھے نجي تحقيقاتي ادارے سٹريٹفور کے مشرق وسطيٰ اور جنوبی ايشيا کے نائب صدر کامران بخاري۔

سب سے آخر میں دیکھیے سوشل میڈیا پر آنے والی آپ کی آراء۔

عالمی خبریں، افغانستان کی بھارت سے فوجی سامان خریدنے کی درخواست

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

اس حصے میں شامل تھیں عالمی خبریں۔

سب سے پہلے خبر کہ برطانوی حکومت نے لندن میں ایک فوجی کے قتل کے تناظر میں سکیورٹی اداروں پر تنقيد کو رد کر ديا ہے۔

اس کی تفصيل سنيے حسين عسکري سے۔

اس کے بعد ایک مختصر نظر ديگر خبروں پر۔

سب سے پہلے افغانستان کے دارالحکومت کابل ميں ايک زور دار دھماکے کے بعد طالبان جنگجؤوں اور سرکاري فوج کے درميان شديد لڑائي ہوئی ہے جس کی زمہ داری طالبان کے ايک ترجمان نے قبول کر لی ہے۔

اس کے علاوہ خبر شامل تھی سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم سے جہاں پانچویں روز بھی فسادات جاری رہے جن میں دو سکول اور ایک پولیس سٹیشن کی عمارت کے علاوہ کئی گاڑیوں کو نظر آتش کيا گیا اور ایران کے صدارتی انتخاب کی مہم جاری ہے۔ چودہ جون کو ہونے والی ووٹنگ کے پہلے راؤنڈ میں صرف آٹھ اميدوار حصہ لے سکیں گے۔

رپورٹ سنیئے عارف شمیم سے

آخر میں دیکھیے کہ افغان صدر حامد کرزئی نے اپنے دورے ميں انڈيا سے فوجی ساز و سامان خريدنے کي درخواست کی ہے۔ انڈیا افغان فوج کو پہلے ہي تربیت بھي فراہم کر رہا ہے۔ صدر کرزئی نے کس قسم کے ہتھیاروں کی درخواست کی ہے اس کي تفصيل تو بتائی نہیں گئی ہے لیکن تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ افغان فوج کو بھاری توپوں، ٹینکوں اور جنگی طیاروں کی ضرورت ہوگی۔ سوال یہ ہے کہ کیا انڈیا اس درخواست پر عمل کر سکتا ہے؟ دیکھیے دلي سے سہيل حليم کی رپورٹ۔

نامور مصنف انتظار حسین کا خصوصی انٹرویو

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

انتظار حسین موجودہ عہد میں پاکستان ہی کے نہیں اردو فکشن، خاص طور پر افسانے یا کہانی کے اہم ترین لکھنے والے تصور کیے جاتے ہیں۔ ان کے افسانوں کے سات مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ اور وہ پہلے پاکستانی ہیں جنہیں بین الاقوامی بکر پرائز ايوارڈ کے ليے شارٹ لسٹ کيا گيا۔ آج کل وہ بکر پرائز کی تقریب اور چند ادبی ميلوں ميں شرکت کے لیے برطانيہ آئے ہوئے ہیں۔ انتظار حسین کے مداحوں کو شارٹ لسٹ کرنا تو ناممکن کام ہے لیکن ان کے ايک ایسے مداح بھی ہیں جو خود بھی ایک مشہور ناولسٹ ہیں۔ پاکستاني نژاد برطانوي مصنف نديم اسلم سے جب انتظار حسین کا انٹرویو کرنے کے لیے پوچھا گیا تو انہوں نے خوشی خوشی خود کو اس کے لیے شارٹ لسٹ کر لیا۔ حال ہی میں شائع ہونے والے ناول ’دی بلائنڈ مینز گارڈن‘ کے مصنف ندیم اسلم / انتظار حسین سے کيا پوچھنا چاہتے ہیں، سنيے انہيں کي زباني

’تو پھر چلیں‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

اس حصے میں ہر جمعے کو شامل ہوتا ہے وسعت اللہ خان کا سفری سلسلہ ’تو پھر چلیں‘۔

جنہیں ہم بڑے لوگ کہتے ہیں ۔بڑے بننے سے پہلے وہ عام سے ہی لوگ تھے۔ان میں سے کچھ اتنے اوپر پہنچ گئے جنہیں ہم آسانی سے دیکھ لیتے ہیں۔ کچھ ، زمانے کی سیڑھی پر وقت کے نچلے پائيدان پر ہی کھڑے رہ گئے۔ وسعت اللہ خان نے پاکستان کے ایک وسطی شہر راجن پور میں وقت کے نچلے پائيدان پر رہ جانے والے ایسے ہی ایک شخص کو جا لیا۔

تو پھر چلیں؟

اسی بارے میں