اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پیر تین جون کا سیربین، حصۂ سوم

بلوچستان میں ایک نئی سیاسی تاریخ رقم ہونے کو ہے۔ پہلي بار وہاں کسی سردار یا نواب کے بجائے مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے قوم پرست رہنما ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو صوبے کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ گو ڈاکٹر عبدالمالک کا تعلق صوبے ميں نسبتاً کم نشستيں حاصلے کرنے والي قوم پرست جماعت نيشنل پارٹي سے ہے، ليکن پھر بھي انہيں اکثريتي جماعت مسلم ليگ نواز نے وزارت اعلٰي کے ليے نامزد کيا ہے۔ صوبے کے مسائل پر سخت گیر موقف رکھنے والی قوم پرست جماعتیں کیا دس سالوں سے سلگتے صوبے کے مسائل حل کر پائیں گی؟

کوئٹہ سے ریاض سہیل کی رپورٹ

بلوچستان کي متوقع مخلوط حکومت کي اہم جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی کے سیکرٹری جنرل/ سینٹر میرحاصل بزنجو کا کہنا ہے کہ ان کي پارٹي سب سے پہلے بلوچستان کے مسئلے کے اہم فریق/ يعني سکيورٹي اسٹیبلشمنٹ سے بات کریں گے۔

بی بی سی اردو کے ہارون رشید نے اسلام آباد میں ایک ملاقات میں میر حاصل بزنجو سے پوچھا کہ وہ بلوچ مزاحمت کاروں کے ساتھ مذاکرات کے لیے کتنے پرامید ہیں؟

سب سے آخر میں آپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر آنے والی آرا شامل ہیں۔