اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

جمعہ سات جون کا سیربین، حصۂ سوم

جب آپ برما کے بارے میں سوچتے ہیں تو یقیناً سب سے پہلے جو ایک خیال آپ کے ذہن ميں آتا ہے وہ ہے آنگ سان سوچی کا يا پھر وہاں مشکلات ميں گھرے روہنگيا مسلمانوں کا۔ لیکن بڑے صنعت کاروں کو خیال آتا ہے برما ميں تجارت کرنے کے لامحدود آپشنز کا۔ قدرتي وسائل سے مالا مال اور کبھي مستحکم معيشت والا يہ ملک/ ايک بار پھر دنيا سے جڑنے کي کوشش کررہا ہے۔ ليکن ايسا کرنے کے ليے اسے کن اقدامات کي ضرورت ہے؟ ديکھیے خديجہ عارف کی رپورٹ ميں۔

اسي موضوع پر بات کرنے کے ليے پروگرام میں شامل ہوئے دلي ميں واقع جواہر لال نہرو يونيورسٹي ميں عالمي امور کے ريٹائرڈ پروفيسر اور تجزيہ نگار پُشپيش کے پنت۔

آپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر آنے والی آراء اس کے بعد۔

کراچي کے لوگوں کو شايد ياد ہو کہ شہر ميں کبھي ايک ڈرائيو اِن سنيما ہوا کرتا تھا، جہاں لوگ اپني گاڑيوں ميں بيٹھ کر فلميں ديکھا کرتے تھے۔ وہ سنيما تو اب نہيں رہا ليکن امريکہ ميں يہ آج بھي مقبول ہيں۔ امريکہ ميں ڈرائيو اِن سنيما کو شروع ہوئے اب اِسي برس ہو گئے ہيں۔

تفصيل کے ساتھ ارم گيلاني۔