بدھ سترہ جولائی کا سیربین

بدھ سترہ جولائی کو نشر ہونے والے بی بی سی اردو سروس کے ٹی وی پروگرام سیربین کے چاروں حصے آپ اس صفحے پر دیکھ سکتے ہیں۔ یہ پروگرام ایکسپریس نیوز پر بھی نشر کیا گیا تھا۔

سیربین ہفتے میں تین دن یعنی پیر، بدھ اور جمعے کو بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر لائیو نشر کیا جاتا ہے۔

سیربین حصہ اول

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچي ميں امن و امان کا مسئلہ برسوں پرانا اور خاصا سنگين ہے۔ مختلف حکومتوں نے اس کے حل کے ليے نيم فوجي رينجرز کو طلب کيا ليکن امن و امان بہتر ہونے کے بجائے رينجرز کے ہاتھوں نہتے شہريوں کي ہلاکتوں کے واقعات نے ايک نيا تنازع پيدا کرديا ہے۔ گزشتہ روز بھي رینجرز اہلکاروں کی مبینہ فائرنگ میں ایک ٹیکسی ڈرائیور ہلاک ہو گیا تھا۔جس سے کراچي ميں رينجرز کے کردار اور طرزِعمل پر بحث ايک بار پھر چھڑ گئي ہے۔ کراچي سے رياض سہيل۔

سیربین کا حصہ دوم

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

بھارت میں حکام اس بات کی تفتیش کررہے ہیں کہ ریاست بہار کے ايک سرکاری سکول میں حکومت کی جانب سے مہيا کئے جانے والے دوپہر کے کھانے کو کھا کر جو بائيس بچے ہلاک تھا یا پھر یہ کسی سازش کا نتیجہ ہے۔ بہار ميں وزير تعليم کا کہنا ہے کہ تقريبا بيس ملين بچوں کو اس سکيم کے تحت کھانا ديا جاتا ہے اور اتني بڑي سطح پر اس کھانے کي مکمل نگراني کرنا ممکن نہيں ہے۔ دلی سے شکیل اختر کی رپورٹ ۔

سیربین کا حصہ سوم

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان میں دہشت گردی اور خراب حالات کی وجہ سے کئی نوجوان ملک چھوڑ کر محفوظ ممالک میں پناہ کے لیے جا رہے ہیں۔ اِن میں قبائلی علاقوں اور بلوچستان سے بھاگ کر یورپی ممالک میں سیاسی پناہ کی تلاش کرنے والوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ ہمارے ساتھی عارف شمیم نے ویانا میں پناہ کے طلب گاروں کے ایک گروہ سے ملاقات کی جو ایک چرچ کی خانقاہ میں گزشتہ سات ماہ سے اپنی پناہ کی درخواستوں کے فیصلے کا انتظار کر رہے تھے۔

سیربین کا حصہ چہارم

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

آج کے کلک میں ہم ٹیکنالوجی کی دنیا میں انٹرنیٹ پر صارفین کی حفاظت سے منسلک ایک نئی تحقیق کے بارے میں بات کریں گے- لیکن اس بار یہ تحقیق بڑوں کي بحائے بچوں پر کی گئی ہے۔ نوشین عباس کی رپورٹ۔