اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پیر بائیس جولائی کا سیربین، حصۂ اول

اختتام ہفتہ تھائي لينڈ کے دارالحکومت بنکاک ميں پاکستان اور انڈيا کے درميان ٹريک ٹو سفارتکاري کے تحت دونوں ملکوں کے مخلتف شعبوں کے ماہرين نے تعلقات بہتر بنانے کے طريقوں پر غور کيا۔ دوسري جانب سابق سيکريٹري خارجہ شہريار خان نے بھي وزيراعظم نوازشریف کے ايلچي کے طور پر دلي ميں انڈين حکام سے ملاقاتيں کيں۔ پچھلے پانچ برسوں ميں يہ پہلي بار ہے کہ دونوں ملکوں کے باہمي روابط ميں گرمجوشي کے آثار پيدا ہوئے ہيں۔ تو کيا ديرينہ تنازعات کے تصفیے کے بغیر پاکستان کی نومنتخب حکومت انڈيا سے تعلقات بہتر بنا پائے گی؟ لاہور سے شمائلہ جعفری کی رپورٹ

اسي بارے ميں اب سے کچھ دير پہلے ميں نے بات کي امريکہ ميں پاکستان کي سابق سفير اور انڈيا کے ساتھ ٹريک ٹو سفارتکاري ميں سرگرم شيري رحمان سے اور ان سے پوچھا کہ نواز شریف نے وزیراعظم بنتے ہی انڈيا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن کیا انڈيا کے ساتھ تعلقات پر سیاستدان کوئی فیصلہ کرنے کي پوزیشن میں بھی ہیں؟