پیر بائیس جولائی کا سیربین

پیر بائیس جولائی کو نشر ہونے والے بی بی سی اردو سروس کے ٹی وی پروگرام سیربین کے چاروں حصے آپ اس صفحے پر دیکھ سکتے ہیں۔ یہ پروگرام ایکسپریس نیوز پر نشر کیا گیا تھا۔

سیربین ہفتے میں تین دن یعنی پیر، بدھ اور جمعے کو بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر لائیو نشر کیا جاتا ہے۔

سیربین حصہ اوّل

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

اختتام ہفتہ تھائي لينڈ کے دارالحکومت بنکاک ميں پاکستان اور انڈيا کے درميان ٹريک ٹو سفارتکاري کے تحت دونوں ملکوں کے مختلف شعبوں کے ماہرين نے تعلقات بہتر بنانے کے طريقوں پر غور کيا۔ دوسري جانب سابق سيکريٹري خارجہ شہريار خان نے بھي وزيراعظم نواز شریف کے ايلچي کے طور پر دلي ميں انڈين حکام سے ملاقاتيں کيں۔ پچھلے پانچ برسوں ميں يہ پہلي بار ہے کہ دونوں ملکوں کے باہمي روابط ميں گرم جوشي کے آثار پيدا ہوئے ہيں۔ تو کيا ديرينہ تنازعات کے تصفیے کے بغیر پاکستان کی نومنتخب حکومت انڈيا سے تعلقات بہتر بنا پائے گی؟ لاہور سے شمائلہ جعفری کی رپورٹ

اسي بارے ميں اب سے کچھ دير پہلے ميں نے بات کي امريکہ ميں پاکستان کي سابق سفير اور انڈيا کے ساتھ ٹريک ٹو سفارتکاري ميں سرگرم شيري رحمان سے اور ان سے پوچھا کہ نواز شریف نے وزیراعظم بنتے ہی انڈيا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن کیا انڈيا کے ساتھ تعلقات پر سیاستدان کوئی فیصلہ کرنے کي پوزیشن میں بھی ہیں؟

سیربین کا حصہ دوم

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان اور انڈيا نے آئندہ دو ماہ میں دو طرفہ معاملات پر مذاکرات بحال کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک میں تعلقات میں بہتری کا فائدہ ماہی گیروں کو پہنچتا ہے، جن کے لیے زنداں کے دروازے کھلتے ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید تِہتر انڈين ماہی گیروں کو رہا کیا جائے گا۔ انڈيا میں قید پاکستانی ماہی گیروں کے خاندان زندگی کیسے گزار رہے ہیں۔ ديکھتے ہيں ریاض سہیل کی اس رپورٹ ميں

برطانوی شاہی خاندان کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ شہزادہ ولیم کی اہلیہ ڈچز آف کیمبرج کیٹ میڈلٹن کو پير کي صبح ليبر پين کے باعث ہسپتال لے جایا گیا۔ شاہی جوڑے کے ہاں ہونے والی اس پہلی اولاد کی جنس معلوم نہیں اور شاہی وراثت کے قانون میں تبدیلی کے بعد اب یہ لڑکا ہو یا لڑکی وہ برطانوی تخت کے دعویداروں کی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہوگا۔ مزيد تفصيل فراز ہاشمي کي زباني

سیربین کا حصہ سوم

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا میں عوام کی سہولت کے لیے پہلی مرتبہ آن لائن ایف آئی آر درج کروانے کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت لوگ اب گھروں میں بیٹھ کر انٹرنیٹ کے ذریعے ایف آئی آر درج کرا سکتے ہیں۔ کیا اس نئے نظام کے اجراء سے روایتی تھانہ کلچر میں بہتری آنے کا کوئی امکان ہے؟ پشاور سے رفعت اللہ اورکزئی کي رپورٹ۔

چند سال قبل ايف آئي آر درج کروانے ميں رکاوٹيں دور کرنے کے ليے اسي طرح کا نظام صوبہ سندھ کے شہر کراچي ميں بھي رائج کرنے کي کوشش کي گئي تھي۔ کراچي ميں يہ تجربہ کيسا رہا اس پر ہم نے بات ک سي پي ايل سي يعني، سِٹِزنز پوليس لي ايزاں کميٹي کے سابق سربراہ جميل يوسف سے اور پوچھا کہ نيٹ کے ذريعے ايف آئي آر درج کرانے کا تجربہ وہاں کيوں کامياب نہيں ہو سکا؟

سیربین کا حصہ چہارم

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

اب جبکہ نئی حکومت اپنی توانائی پالیسی کا اعلان کرنے والی ہے ہمارے بزنس نامہ نگار خرم حسین نے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی ہے کہ بجلی کی پیداوار کب اور کیسے شروع ہوئی۔ ہمارے خطے میں بجلی کی پیداوار شروع کرنے والوں کی سوچ اور دورس نظر سے شاید آج توانائی کا بحران حل کرنے کی کوششیوں میں مصروف منصوبہ سازوں کے لیے کوئی سبق موجود ہو۔