بدھ سات اگست کا سیربین

بدھ سات اگست کو نشر ہونے والے بی بی سی اردو سروس کے ٹی وی پروگرام سیربین کے چاروں حصے آپ اس صفحے پر دیکھ سکتے ہیں۔ یہ پروگرام ایکسپریس نیوز پر نشر کیا گیا تھا۔

سیربین ہفتے میں تین دن یعنی پیر، بدھ اور جمعے کو بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر لائیو نشر کیا جاتا ہے۔

سیربین کا حصہ اوّل

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

نواز شريف شدت پسندي کے خاتمے اور امن کي بحالي کے وعدے پر برسراقتدار آئے تھے ليکن خاتمہ تو دور کي بات، نواز حکومت کے ابتدائي چند ہفتوں ميں تو بظاہر ايسے حملوں ميں خاصا اضافہ دکھائي دے رہا ہے۔ چند روز پہلے ديامر ميں تين فوجي اور پوليس افسران مارے گئے / تو گزشتہ روز کراچي ميں بم دھماکے ميں کئي بچوں سميت گيارہ لوگ ختم ہوگئے۔ ماہرين کے خيال ميں شدت پسندي کے مقابلے کي کوششوں ميں ناکامي کا ايک بڑا سبب ملک ميں پابندي کے باوجود/ ايسے مواد کي ْآساني سے دستيابي ہے جو شدت پسندي کے فروغ ميں معاون ہے اور ايسے نظريات کے ليے افرادي قوت کي فراہمي ميں مددگار بھي۔ اسلام آباد سے ارم عباسي کي

سیربین کا حصہ دوم

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ایک ممکنہ دہشت گرد حملے کے خطرے کے تحت امریکی اور برطانوی شہری یمن چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ اب اس خطرے کی تفصیلات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ یمنی حکومت نے تیل کی پائپ لائنز دھماکے سے اڑانے اور بندر گاہوں پر قبضہ کرنے کے منصوبے ناکام بنا دیے ہیں۔ یمن بھر میں حکومتی اور سفارتی عمارتوں میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں اور ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کے امریکی سپیشل فورسز یمن میں القاعدہ کے خلاف ممکنہ آپریشن کی تیاری بھی کر رہی ہیں۔ تفصیل کے ساتھ ثناء گلزار۔

سیربین کا حصہ سوم

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

طالبان کے رہنما ملا عمر نے عید پر اپنے بیان میں امریکہ کے ساتھ مفاہمتی عمل کے دوبارہ شروع کرنے کا بھی عندیہ ديتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان سے غیر ملکی فوجیوں کے انخلاء کے بعد طالبان اقتدار پر قبضہ نہیں کرنا چاہتے۔ دوسري طرف امريکہ کے پاکستان اور افغانستان کے ليے خصوصي ايلچي جيمز ڈوبن نے بھي بي بي سي سے ايک انٹرويو ميں طالبان سے جلد مذاکرات شروع کرنے کي خواہش کا اظہار کيا ہے۔ فراز ہاشمی کی رپورٹ

سیربین کا حصہ چہارم

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

اور اب وقت ہوا ہے ہمارے پروگرام کلک کا

جب آپ وڈیو گیمز کے بارے میں سوچتے ہیں تو زیادہ تر پہلے ایکشن کا ہی خیال آتا ہے -وڈیو گیمز کی صنعت میں کمپنیز زیادہ تر عام موضوعات سے ہٹ کر مختلف موضوعات پر گیمز بنانے سے جھجھکتے ہیں کیونکہ وہ رسک نہیں لینا چاہتے - لیکن ذاتی اور سنجیدہ موضاعات پر گیمز بن رہی ہیں- اس کو کون لوگ ممکن بنا رہے ہیں اس کے بارے میں ہمیں بتائیں گی نوشین عباس