بدھ چودہ اگست کا سیربین

بدھ چودہ اگست کو نشر ہونے والے بی بی سی اردو سروس کے ٹی وی پروگرام سیربین کے چاروں حصے آپ اس صفحے پر دیکھ سکتے ہیں۔ یہ پروگرام ایکسپریس نیوز پر نشر کیا گیا تھا۔

سیربین ہفتے میں تین دن یعنی پیر، بدھ اور جمعے کو بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر لائیو نشر کیا جاتا ہے۔

سیربین کا حصہ اوّل

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

گزشتہ ہفتے کنٹرول لائن پر انڈيا کے پانچ فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پاکستان اور انڈيا کے تعلقات پہلے سے بھی زیادہ پیچیدہ ہو گئے ہیں۔ فوجیوں کی ہلاکت کے لیے پاکستان پر الزام عائد کیا گیا ہے تاہم پاکستان نے ان الزامات کو مسترد کر ديا ہے۔ وزير اعظم نواز شريف کي نئي حکومت کي ترجيحات ميں انڈيا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا بھي شامل ہے ليکن انڈيا میں جوابی کارروائی کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ پاکستان اور انڈيا کے بگڑتے ہوئے تعلقات پر دلی سے نامہ نگار شکیل اختر کی رپورٹ۔

اسی سلسلے میں نئی دہلي ميں واقع انسٹي ٹيوٹ آف ڈیفنس سٹڈيز اينڈ انیليسز سے منسلک دفاعي تجزيہ کار شُشانت سرين سے بات چیت بھی اس حصے میں شامل ہے۔

سیربین کا حصہ دوم

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان اور انڈیا کے درمیان جب بھی تعلقات میں بہتری کی بات آتی ہے کچھ نہ کچھ ایسا ضرور ہوتا ہے کہ امن کا عمل مسائل سے دوچار ہوجاتا ہے۔ انڈیا کے سابق وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپئی کے لاہور سمٹ میں امن کا پیغام لے کر آنے سے لے کر حالیہ سرحدی کشیدگی تک کے اہم واقعات پر ایک نظر ڈالي عارف شميم نے جبکہ اس پر مزيد بات کرنے کے ليے موجود تھے بی بی سی کے نامہ نگار آصف فاروقي۔

سیربین کا حصہ سوم

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

تیسرے حصے میں ذکر ہوا مصر ميں فوج اور معزول صدر محمد مرسي کے حاميوں کے درميان جھڑپوں ميں سینکڑوں افراد کي ہلاکت کے بعد ہنگامي حالت کے نفاذ اور اسرائیل اور فلسطین کے درمیان گزشتہ تين سال سے تعطل کا شکار براہ راست امن مذاکرات کے دوبارہ آغاز کا۔ اس کے علاوہ بھارتی بحریہ کی ایک آبدوز کی دھماکوں اور آتشزدگی کے نتیجے میں تباہی اور اس کے عملے کی ممکنہ ہلاکت پر بات ہوئی۔

سیربین کا حصہ چہارم

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

اور آخر میں ہفتہ وار سلسلے ’کلک‘ میں ذکر ہوا ترجمے کی ٹیکنالوجی کا۔ ٹیکنالوجی نے انسانوں کو ایک دوسرے کے نزدیک لانے کے لیے وڈیو کالز سے لے کر وائس میسجنگ تک کیا کچھ نہيں کیا لیکن اب بھی کچھ چیزیں ادھوری ہیں۔ جتنی تیزی سے ٹیکنالوجی ترقی کر رہي ہے کیا وہ ترجمے کا مسئلہ بھی حل کر سکتی ہے؟