بالی وڈ فلم ’مدراس کیفے‘ تنازع کا شکار

مدراس کیفے
Image caption فلم میں جان ابراہم ایک را ایجنٹ میجر وکرم سنگھ کے مرکزی کردار میں ہیں

بالی وڈ میں اس ہفتے ریلیز ہونے والی تھرلر فلم ’مدراس کیفے‘ پر تنازع پیدا ہوگیا ہے اور تمل گروپوں نے اس پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔

اس فلم کے ٹریلر سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فلم کا موضوع بھارت کے سابق وزیرِ اعظم راجیوگاندھی کا قتل اور سری لنکا کا مسئلہ ہے۔

فلم میں 1980 اور 1990 کی دہائی کا دور دکھایا گیا گیا ہے جب 1991 میں جنوبی بھارت کی ریاست تمل ناڈو میں سری لنکا کے تمل ٹائیگرز کے باغیوں نے ایک الیکشن ریلی میں راجیو گاندھی کو قتل کردیا تھا۔

فلم کے ڈائریکٹر شوجی سرکار نے تسلیم کیا کہ یہ فلم حقیقی واقعات سے متاثر ہو کر بنائی گئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حالانکہ فلم سچے واقعات سے متاثر ہے لیکن اس میں کافی ریسرچ کی گئی ہے۔

اس میں دکھائی گئی کہانی اصل گروپ کے نظریات اور خانہ جنگی کا احاطہ کرتی ہے اور حقیقی سیاسی حالات سے ملتی جلتی ہے۔

شوجی سرکار کا کہنا ہے کہ فلم ان اہم واقعات کے گرد گھومتی ہے جن کے سبب بھارت کی سیاسی تاریخ میں تبدیلیاں آئی تھیں۔

فلم میں جان ابراہم ایک را ایجنٹ میجر وکرم سنگھ کے مرکزی کردار میں ہیں جنہیں سری لنکا کی خانہ جنگی کے دوران جفنا بھیجا جاتا ہے جہاں وہ باغیوں اور فوج کی سیاست میں پھنس جاتے ہیں۔

اسی دوران انہیں وزیرِاعظم راجیو گاندھی کے قتل کی سازش کا پتہ چلتا ہے۔

سرکار نے تسلیم کیا کہ فلم میں باغیوں کے رہنما کی شکل تمل باغیوں کے لیڈر وی پربھاکرن سے بہت ملتی ہے۔ راجیو گاندھی کا کردار نبھانے والے اداکار بلکل راجیو گاندھی جیسے لگتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ محض اتفاق ہے۔

فلم ریلیز سے پہلے ہی تنازع کا شکار ہو گئی ہے۔ تمل سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ فلم تمل مخالف ہے اور وہ ریاست میں اس کی ریلیز نہیں ہونے دیں گے۔

اس ہفتے کچھ مظاہرین کے لیے فلم کی خصوصی سکریننگ بھی رکھی گئی تھی لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔

کئی لوگوں کا خیال ہے کہ فلم میں تمل باغیوں اور پربھاکرن کو ولن کے طور پر دکھایا گیا ہے۔

اسی بارے میں