اے پی سی پر لیڈروں کا موقف

پاکستان کی حکومت نے ملک میں دہشتگردی کے بارے میں حکمت عملی طے کرنے کے لیے پیر کو آل پارٹیز کانفرنس بلائی ہے جس میں حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے پارلیمان میں نمائندگی رکھنے والی تمام جماعتوں کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

اس کانفرنس کا مقصد یا ایجنڈا کیا ہے، اس میں شرکت کرنے والی جماعتیں کس امید سے اس میں حصہ لے رہی ہیں اور اس کی کامیابی کا امکان کیا ہے؟ اس حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی گفتگو سنیے۔

امین فہیم، پاکستان پیپلز پارٹی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

بی بی سی کی شمائلہ خان نے پی پی پی کے رہنما امین فہیم سے بات کی اور پوچھا کہ ان کی پارٹی کیا ایجنڈا لے کر آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کرے گی۔

حامد خان، پاکستان تحریک انصاف

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان تحریک انصاف ان جماعتوں میں شامل ہے جو آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کرنے جا رہی ہے۔ بی بی سی کے اسد علی نے تحریک انصاف کے سینیئر رہنما اور آئینی ماہر حامد خان سے بات کی اور پوچھا کہ شدت پسند تنظیموں سے کن شرائط پر بات چیت کی جا سکتی ہے اور اس پر ان کی جماعت کا موقف کیا ہے؟

حیدر عباس رضوی، متحدہ قومی موومنٹ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

گزشتہ حکومت کا حصہ رہنے والی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما حیدر عباس رضوی کی اے پی سی کے بارے میں گفتگو۔

حاجی عدیل، عوامی نیشنل پارٹی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

بی بی بی سی کی شمائلہ خان نے پیپلز پارٹی کی حکومت کی اتحادی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما حاجی عدیل سے کانفرنس کے بارے میں ان کی رائے معلوم کی۔

فرحت تاج، تجزیہ کار

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

بی بی سی کے اسد علی نے ناروے میں قبائلی اور طالبان کے امور کی ماہر فرحت تاج سے بات کی اور ان سے سیاسی جماعتوں میں شدت پسند تنظیموں کے بارے میں اختلافات کے بارے میں بات کی۔