بدھ 18 ستمبر کا سیربین

بدھ 18 ستمبر کو نشر ہونے والے بی بی سی اردو سروس کے ٹی وی پروگرام سیربین کے چاروں حصے آپ اس صفحے پر دیکھ سکتے ہیں۔

سیربین ہفتے میں تین دن یعنی پیر، بدھ اور جمعے کو بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر لائیو نشر کیا جاتا ہے۔ یہ پروگرام ایکسپریس نیوز پر بھی نشر کیا گیا تھا۔

سابق عسکریت پسند بھارتی حکومت کی مدد کے منتظر

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

انڈيا کے زیرِ انتظام کشمیر کے سینکڑوں نوجوان برسوں پہلے مسلح تربیت کے ليے پاکستانی زیر انتظام کشمير چلے گئے تھے۔ اِن میں سے اکثر تو انڈيا مخالف تحریک میں شامل ہو گئے، لیکن بہت سے ايسے بھي تھے جنہوں نے وہاں شادیاں کر کے سماجی زندگی شروع کی۔ بھارتی حکومتِ کی سرینڈر پالیسی کے تحت ايسے کئي نوجوان اب پچھلے کئی ماہ سے پاکستانی بیویوں اور بچوں کے ہمراہ انڈين کشمیر پہنچ رہے ہیں، لیکن يہاں اِن کی زندگی اِس قدر عذاب بن کر رہ گئی ہے کہ اُن کے تجربات کي روشني ميں باقی نوجوان اِس پالیسی کے تحت کشمیر جانا ہی نہیں چاہتے۔ سرینگر سے ریاض مسرور۔

شام ميں کیمیائی راکٹ کس نے فائر کیے؟

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

عالمي موقف میں اِس بات پر اختلافِ رائے بڑھتا جا رہا ہے کہ شام ميں کیمیائی راکٹ کس نے فائر کیے تھے۔ روس نے کہا ہے کہ شام کي حکومت نے اُسے نئے شواہد فراہم کيے ہيں کہ شامي باغيوں نے کيميائي ہتھيار استعمال کيے نہ کہ حکومت نے۔ روس نے شام ميں کيميائي ہتھياروں کے استعمال پر اقوامِ متحدہ کي رپورٹ کو يکطرفہ اور جانبدارانہ قرار ديا ہے۔ تفضيل کے ساتھ شفي نقي جامعي۔

برطانیہ میں برقع پھر زیرِ بحث

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

برطانیہ میں سکولوں اور عوامی مقامات پر چہرے کا نقاب پہننے کے متعلق ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ لبرل ڈيموکريٹ جماعت سے تعلق رکھنے والے جونیئر وزیر برائے داخلہ جیریمی براؤن کا کہنا ہے کہ آزادیوں کے تحفظ اور ایک جامع معاشرے کو برقرار رکھنے کے لیے ایک توازن برقرار رکھنا ضروری ہے جبکہ مسلمان برادري اسے اپنے خلاف امتيازي سلوک سمجھ رہي ہے۔ عارف شميم کي رپورٹ۔

کلک

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ذرا تصور کيجيے ايک ايسے وقت کا جب آپ آن لائن شاپنگ کريں تو وہاں موجود مصنوعات کو جوں کا توں خريدنے کي بجائے آپ اُن کو ڈاؤن لوڈ کر کے پرنٹ کر سکيں اور خود اپني مرضي کے مطابق انہيں ڈيزائن کر سکيں اور ڈيزائن کے اس عمل ميں ايک سے زيادہ لوگوں کو شامل بھي کرسکيں۔ تھري ڈي پرنٹنگ پر مبني اس تکنيک کو صنعتي ڈيزائن کي دنيا ميں ايک انقلاب خيال کيا جا رہا ہے۔ ٹيکنولوجي کي دنيا سے تازہ ترين خبروں کے ساتھ نوشين عباس۔

اسی بارے میں