اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

’میں کسی لڑکی کو ان پڑھ نہیں دیکھنا چاہتی‘

ملالہ يوسف زئي پر طالبان کے قاتلانہ حملے کو ايک برس گزر گیا ہے۔ ملالہ کا قصور صرف يہ تھا کہ انہوں نے لڑکيوں کي تعليم کے ليے صدا بلند کي۔ ملالہ اس حملے ميں بال بال بچيں اور اب وہ برطانيہ کے شہر برمنگھم میں رہتي ہيں اور وہيں زير تعليم ہيں۔

آج ملالہ کي پہچان تعليم نسواں کي علبمردار کے طور پر ہے۔ سولہ سال کي عمر میں انہیں اقوام متحدہ کي جنرل اسمبلي سے خطاب کا اعزاز حاصل ہوا۔ ملالہ نے بی بی سی کي ميشيل حسين سے گفتگو کي، مستقبل پر نظر رکھي اور حملے والے دن کو ياد کيا۔