بدھ نو اکتوبر کا سیربین

بدھ نو اکتوبر کو نشر ہونے والے بی بی سی اردو سروس کے ٹی وی پروگرام سیربین کے چاروں حصے آپ اس صفحے پر دیکھ سکتے ہیں۔

سیربین ہفتے میں تین دن یعنی پیر، بدھ اور جمعے کو بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر لائیو نشر کیا جاتا ہے۔ یہ پروگرام ایکسپریس نیوز پر بھی نشر کیا گیا تھا۔

حکيم اللہ محسود کیسی شخصيت کے مالک

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان تحريک طالبان کے سربراہ حکيم اللہ محسود نے بی بی سی کے ساتھ ايک خصوصي بات چيت میں حکومت کے ساتھ مذاکرات سے متعلق کہا ہے کہ مذاکرات ہوسکتے ہیں ليکن ساتھ ہی انہوں نے جنگ بندي کے لیے بعض شرائط بھی بيان کی ہیں۔ ان کا يہ انٹرويو ذرا دير میں ليکن پہلے اسلام آباد سے محمود جان بابر کي يہ رپورٹ جس میں انہوں نے مجوزہ مذاکرات کو درپيش بعض چیلنجز کا جائزہ لیا ہے۔

حکيم اللہ محسود نے ايک لمبے عرصے کے بعد کسي بھي ميڈيا ادارے کو انٹرويو ديا ہے۔

وہ امريکہ کے سب سے زيادہ مطلوب افراد کي فہرست ميں شامل ہیں اور ان کے سر پر پچاس لاکھ ڈالر کا انعام ہے۔ بی بی سی کي جانب سے يہ انٹرويو نامہ نگار احمد ولي مجيب نے کيا اور اسلام آباد سے ہمارے ساتھ موجود ہیں۔ احمد ولي مجيب کيا باتیں کیں طالبان رہنما نے؟

احمد ولي مجيب يہ بتائیں کہ يہ انٹرويو آپ نے حاصل کيسے کيا اور جب آپ وہاں گئے تو وہاں ماحول کيسا تھا؟ حکيم اللہ محسود کيسي شخصيت کے مالک ہیں؟

طالبان کے ساتھ مذاکرات کی صورتحال کيا بن رہی ہے؟

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

کچھ دير پہلے آپ نے کالعدم تحريک طالبان پاکستان کے امير حکيم اللہ محسود کا بی بی سی کے ساتھ خصوصي انٹرويوديکھا جس کا محور پاکستاني حکومت اور طالبان کے درميان ممکنہ مذاکرات تھے۔ اسي تناظر میں اب سے کچھ دير پہلے میں نے پاکستاني فوج کے سابق ترجمان ميجر جنرل اطہر عباس سے بات کي اور ميرا پہلا سوال یہی تھا کہ اُن کے خيال میں مذاکرات کي صورتحال کيا بن رہی ہے۔

اور اس وقت ميرے ساتھ يہاں سٹوڈيو ميں موجود ہيں بی بی سی پاکستان کے ايڈيٹر ہارون رشيد جو خود بھي صوبۂ خيبر پختونخوا اور قبائلي عالاقوں کي صورتحال پر گہري نظر رکھتے ہیں۔ ہارون آپ خود بھي تو حکيم اللہ محسود سے کئی بار ملاقات کر چکے ہیں۔ آپ کي آخري ملاقات اور اِس انٹرويو ميں دکھائی دينے والے حکيم اللہ محسود ميں کتنا فرق محسوس ہوا آپ کو۔

بھارت کے بے گھر افراد اور ہیٹی کا اقوام متحدہ پر معاوضے کا دعویٰ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

انڈیا کے بڑے شہروں جیسے دہلی اور ممبئی میں فٹ پاتھ پر سوتے اور پلوں کے نیچے رہتے لوگوں کو دیکھنا عام بات ہے۔ حکومت کے مطابق ملک کے شہروں میں بیس لاکھ افراد بے گھر ہیں لیکن غیر سرکاری تنظیموں کے مطابق انڈیا کے شہروں میں ہر سو میں سے ایک شخص بے گھر ہے۔ دہلی میں ایسے ہی بے گھر لوگوں کی زندگی کو سمجھنے کے لیے سینکڑوں طالب علموں اور نوکري پیشہ لوگوں نے ان کے ساتھ ایک رات گزاری۔ کیسی تھی یہ ملاقات، یہی جاننے کے لیے بی بی سی کی دیویا آریا بھي وہاں موجود تھیں۔

اور اسی بارے میں اب سے ذرا دير قبل میں نے بات کي بے گھر افراد کے حقوق کے ليے ايک لمبے عرصے سے کام کرنے والے سرکردہ سماجي کارکن اندو پرکاش سنگھ سے اور پوچھا کہ حکومت کہتی ہے انڈیا کے شہروں میں صرف بیس لاکھ افراد بے گھر ہیں لیکن غیر سرکاری تنظیمیں کہتی ہیں کہ ملک کے بڑے شہروں میں ہر سو میں ایک انسان بے گھر ہے، سچائی کیا ہے؟

ہيٹي ميں حاليہ تاريخ میں ہيضے کي سب سے بڑي وباء کا شکار ہونے والے اقوامِ متحدہ پر اربوں ڈالر معاوضے کا دعويٰ دائر کر رہے ہیں۔ اِس وباء سے ہلاک ہونے والے آٹھ ہزار افراد کے ورثاء کے وکلاء کا کہنا ہے کہ دو ہزار دس میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن کے اہلکار ہيٹی میں ہيضہ پھيلانے کا سبب بنے۔ تفصيل شفیع نقی جامعی سے

کلک میں دانتوں کی حفاظت اور صفائی کے طریقے

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

آج کے کلک میں ہم یہ دیکھیں گے کہ کیا ٹیکنولوجی کی ترقی، دانتوں کی حفاظت اور صفائی کے طریقوں پر کس طرح اثر انداز ہو سکتی ہے؟ پیش کر رہی ہیں نوشین عباس

اسی بارے میں