اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پشاور دہشت گردوں کا ہدف کیوں؟

دہشت گردي کا زخم پاکستان کے کسي ايک شہر پر سب سے زیادہ گہرا ہے تو وہ خیبرپختونخوا کا دارالحکومت پشاور ہے جو افغانستان پر روسی حملے کے بعد سے گزشتہ 34 برسوں میں آئے دن کسي نہ کسي دہشت گردانہ کارروائي کا نشانہ ضرور بنتا ہے۔

2009 ميں 28 اکتوبر کو مینا بازارمیں کار بم دھماکے میں کم از کم 137 افراد ہلاک ہوئے۔ نو مارچ 2011 کو نواحی علاقے ادیزئی میں ایک جنازے کے دوران خودکش حملے میں 43 افراد ہلاک اور باون زخمی ہوئے۔ 22 ستمبر 2013 کو کوہاٹی بازار میں آل سینٹس چرچ پر مبینہ خودکش حملے میں 85 افراد ہلاک اور 145 کے قریب زخمی ہوئے۔ اور 29 ستمبر کو قصہ خوانی بازار میں کار بم دھماکے کے نتیجے میں 42 افراد ہلاک اور ايک سو زخمی ہوئے۔

یہ اہم تاریخی شہر اتنی آسانی سے کیوں نشانہ بنتا ہے اور اس کو بچانا اتنا مشکل کیوں ہے۔ ان سوالوں کا جائزہ لیا ہے نامہ نگار محمود جان بابر نے اپنی اس رپورٹ میں۔