آرمینیائی باشندوں کی پناہ گاہ ایک مسجد

آرمینیا کے دارالحکومت یراوان کے ضلع کوندھ میں ایک مسجد میں گزشتہ پچاسی سال سے پناہ گزین آباد ہیں۔

،تصویر کا کیپشن

آرمینیا کے دارالحکومت یراوان کے ضلع کوندھ میں یہ مسجد سنہ انیس سو ستاسی میں تعمیر کی گئی تھی۔ سنہ انیس سو پندرہ میں ترکی میں آرمینیائی باشندوں کے قتل عام کے دوران کئی لوگ جان بچا کر آرمینیا آ گئے تھے۔ سنہ انیس سو بیس کے عشرے میں سوویت حکمرانی کے دور میں شہر کے میئر نے ان پناہ گزینوں کی رہائش کے لیے اس مسجد میں فلیٹس بنانے کا حکم دیا تھا۔ بی بی سی کے مارک گریگورین اور نار بباین نے اس خستہ حال مسجد کا دورہ کیا اور یہاں مقیم خاندانوں سے ملاقات کی۔

،تصویر کا کیپشن

اس مسجد میں پناہ لینے والوں کا خیال تھا کہ سوویت حکومت انہیں مناسب رہائش دے گی۔ تاہم پچاسی سال گزر جانے کے بعد بھی وہ ان چھوٹے اور اندھیرے کمروں میں رہ رہے ہیں۔ یہ شیعہ مسلک کی مسجد تھی جہاں یراوان میں رہنے والے فارسی اور آذری افراد عبادت کے لیے آتے تھے۔

،تصویر کا کیپشن

یہ مسجد کا داخلی راستہ تھا۔ اسے بند کر کے یہاں کچن بنا دیا گیا اور دروازے کی جگہ ایک کھڑکی لگا دی گئی۔ اس فلیٹ میں تین افراد رہائش پذیر ہیں۔

،تصویر کا کیپشن

سنہ انیس سو اٹھاسی میں مسجد کا ایک گنبد گر گیا تھا۔ چوہتر سالہ گروش بتاتے ہیں کہ ’یہ نچلی منزل کی چھت پر گرا تھا‘۔ اس وجہ سے یہ عمارت رہائش کے لیے خطرناک ہوگئی ہے۔

،تصویر کا کیپشن

وہ جگہ جہاں کسی دور میں وہ گنبد ہوا کرتا تھا وہاں اب گروش نے ایک باغیچہ بنا لیا ہے۔ وہ اس چھوٹے سے باغیچے میں انگور اگاتے ہیں اور اس کے علاوہ یہاں انار اور مرچ کے درخت بھی ہیں۔

،تصویر کا کیپشن

اس باغ میں اُس گنبد کے کچھ حصے اب بھی موجود ہیں۔

،تصویر کا کیپشن

کلارا شادی کے بعد سے اس مسجد میں رہائش پذیر ہیں۔ وہ آج بھی وہاں اپنے بیٹے کی فیملی کے ساتھ رہتی ہیں۔

،تصویر کا کیپشن

کلارا کا پوتا گور بھی ان کے ساتھ رہتا ہے۔

،تصویر کا کیپشن

کلارا کئی سالوں تک آرمینیا کے فنکاروں کی یونین کے دفتر میں کام کرتی رہیں لیکن اب وہ ریٹائر ہو چکی ہیں اور انہیں اب کسی دوسرے فلیٹ میں منتقل ہونے کی کوئی امید نہیں ہے۔

،تصویر کا کیپشن

یہ مسجد آرمینیا کی تاریخی عمارتوں کی فہرست میں شامل ہے لیکن حکام کے پاس یہاں رہنے والے خاندانوں کو منتقل کرنے یا اس کی مرمت کروانے کے لیے مالی وسائل موجود نہیں ہیں۔