اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

بدھ 23 اکتوبر کا سیربین، حصۂ اول

پاکستانی وزير اعظم مياں نواز شريف کی دورۂ امریکہ سے جڑی خواہشات کي فہرست لمبي ہے ليکن امريکہ بھي پاکستان سے کچھ کم نہيں چاہتا۔ پاکستانی وزير اعظم نے ملاقات سے پہلے واضح کيا تھا کہ وہ تجارت کا فروغ، سٹريٹيجک مزاکرات کا آغاز اور ڈرون حملوں کو روکوانا چاہتے ہيں۔ تاہم امريکہ کہتا ہے کہ ڈرون حملے جاري رہيں گے اور پاکستان کو شدت پسندي کے خاتمے کے لئے مزيد اقامات کرنے چاہئيں۔

دیکھیے واشنگٹن سے نامہ نگار برجيش اپادھيايے کي رپورٹ۔

اسي بارے ميں مزيد بات کرنے کے ليے پروگرام میں براہِ راست شامل تھے اسلام آباد سے صحافي زاہد حسين اور واشنگٹن سے تھِنک ٹينک اٹلانٹِک کونسل کے ساؤتھ ايشيا سينٹر کے سربراہ شجاع نواز۔

اسی حصے میں دیکھیے کہ چند دن پہلے انساني حقوق کے گروپ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹوں میں دعويٰ کيا گیا تھا کہ اِن ڈرون حملوں ميں سے بعض جنگي جرائم اور ماورائے عدالت قتل کے زمرے ميں آ سکتے ہيں۔

ڈرون حملوں کے تنازع پر بات کرنے سے پہلے ديکھيے عارف شميم کي يہ رپورٹ