اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ڈاکٹر علی حیدر غریبوں کا علاج مفت کرتے تھے

فرقہ وارانہ جنونیت کا نشانہ بننے والے ڈاکٹروں کے بارے میں بی بی سی اردو سروس کے ریڈیو پروگرام سیربین میں شفعی نقی جامعی نے بات کی ڈاکٹر عمر علی سے اور پوچھا وہ کسی ایسے ڈاکٹر کو جانتے ہیں جو فرقہ وارانہ جنون کا شکار عناصر کے ہاتھوں ہلاک ہوئے۔

ڈاکٹر عمر علی نے بتایا کہ ایک مثال لاہور میں ڈاکٹر علی حیدر کی ہے۔

لاہور میں اس برس فروری میں پروفیسر سید علی حیدر فرقہ وارانہ جنونیت کا شکار ہوئے۔ وہ پاکستان کے ایک نمایاں گھرانے سے تھے۔ ان کے والد سید ظفر حیدر ایک مشہور سرجن تھے۔

ڈاکٹر علی حیدر اوکفسورڈ سے امراض چشم میں سپیشلائزیشن کرنے کے بعد لاہور واپس آئے۔ وہ اپنے ذاتی پیسے سے آئی کیمپ لگاتے تھے اور لوگوں کا مفت علاج کرتے تھے۔

وہ پاکستان سے باہر رہنے والے اپنے دوستوں اور رفقا سے کہتے تھے کہ پاکستان میں آ کر خدمت کریں یہاں جتنا سکون ملاتا ہے کہیں اور نہیں ملاتا۔ ڈاکٹر علی حیدر اکلوتے بیٹے تھے۔