پیر 02 دسمبر کا سیربین

پیر 02 دسمبر کو نشر ہونے والے بی بی سی اردو سروس کے ٹی وی پروگرام سیربین کے چاروں حصے آپ اس صفحے پر دیکھ سکتے ہیں۔

سیربین ہفتے میں تین دن یعنی پیر، بدھ اور جمعے کو بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر لائیو نشر کیا جاتا ہے۔ یہ پروگرام ایکسپریس نیوز پر بھی نشر کیا گیا تھا۔

بگرام جیل سے لوٹنے والوں کی اپنوں سے ملاقات

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

افغانستان کي بگرام جیل سے رہائی پانےوالے چھ پاکستانی قیدیوں کی ملاقات پشاور ميں اُن کے خاندانوں سے کروائی گئی ہے۔ یہ قیدی اب حکومتِ پاکستان کی تحویل میں ہیں۔ پاکستان واپس بھيجے جانے والے ان قیدیوں کا تعلق پشاور اور پاکستان کے قبائلی علاقوں سے ہے۔ ان قیدیوں میں ایک حمید اللہ اور محمد ریاض بھی شامل ہیں۔ بی بی سی نے حمید اللہ کے والد وکیل خان اور محمد ریاض کے بھائی محمد اسلم سے بات کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ اپنوں کے لاپتہ ہونے کے بعد اُن پر کیا گزری اور اب جبکہ وہ ایک غیرملکی جیل سے نکل کر پاکستان میں قید ہیں اُن کے خاندان اپنے پیاروں کی رہائی کے لیے کس حد تک پُرامید ہیں۔

بگرام جيل سے پاکستاني جيلوں ميں منتقل کيے جانے والے چھ افراد کي وکيل سارہ بلال سے گفتگو

اور افغانستان کے بگرام جيل سے کئي پاکستاني قيدي پاکستان منتقل کيے گئے ہيں ليکن اب بھي کئي وہاں قيد ہيں۔ اِسي موضوع پاکستان کے قبائلي علاقوں کے سابق سکريٹري سکيورٹي بريگيڈئر محممود شاہ سے بات چیت سیربین کے پہلے حصے میں

عالمی خبریں

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

اقوام متحدہ کي انساني حقوق کي کمشنر نوي پِلئي نے پہلي بار شام کے صدر بشار الاسد پر جنگي جرائم اور انسانيت کے خلاف جرائم ميں ملوث ہونا کا الزام لگايا ہے۔ اسي دوران شام ميں کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے انسپکٹرز نے آج شام کا دورہ کيا ہے۔

اور دیکھئیے کہ پچھلے سات برسوں سے بلغاریہ اور رومینیا کے شہریوں پر یورپی ینوین کے دوسرے ممالک میں جانے اور وہاں کام کرنے پر کئی پابندیاں عائد تھیں۔ ایک ماہ کے عرصے میں یہ ساری پابندیاں ختم ہونے والی ہیں جس کے تناظر ميں برطانیہ سمیت کئی ملکوں میں اس معاملے پر سیاسی بحث خاصی گرم ہے۔ یورپ کے غریب ملکوں سے امیر ملکوں کی طرف افرادی قوت کی نقل و حرکت کتنی بڑی تعداد میں ہوسکتی ہے، اسی کا اندازہ لگانے کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار میتھیو پرائس رومینیا کے شمال مغربی علاقے ٹرانسلوینیا گئے جہاں سے لوگ پہلے ہی بڑی تعداد میں شمالی یورپ کے امیر ملکوں کی طرف جا رہے ہیں۔

پاکستان میں سبزیوں کے بڑھتے دام

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی بالخصوص ٹماٹر، پیاز اور دیگر سبزیوں کی قیمتوں میں حالیہ غیر معمولی اضافے نے صارفین کو رلا دیا ہے۔ مہنگائی کی لہر بدستور جاری ہے جس سے متوسط طبقے کی مشکلات روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ اس سے غریب خاندان کیسے متاثر ہورہے ہیں، اس کا جائزہ ہمارے ساتھی رفعت اللہ اورکزئی نے اس رپورٹ میں لینے کی کوشش کی ہے۔

پاکستان ميں سبزيوں کي بڑھتي قيمتوں کے مسئلہ پر سابق سيکرٹري زراعت اور پاکستان اگريکلچرل ريسرچ کونسل کے سابق چيرمين ڈاکٹر ظفر الطاف کی گفتگو سیربین کے تیسرے حصے میں دیکھئیے

معذوری کو شکست اور نادر گاڑیوں کا سفر

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان میں جہاں معذوری کو راستے کی دیوار سمجھا جاتا ہے، وہیں، ایسے لوگوں کی مثالیں بھی ہیں جنہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ چھ سال قبل روالپنڈی سے تعلق رکھنے والے ایک کلب کرکٹر الطاف احمد ایک حادثے کا شکار ہوئے جس نے ان کو معذور کر دیا۔ تاہم، کرکٹ کے جنون کی وجہ سے انہیں پاکستان ڈس ایبلڈ کرکٹ ايسو سی ایشن کے ساتھ بین القوامی سطح پر کرکٹ کھیلنے کا موقع مل رہا ہے۔ دیکھییے بی بی سی کے ساتھ ان کا خصوصی گفتگو

اس کے علاوہ سیربین کے آخری حصے میں شامل ہے طرح طرح کی نادر گاڑیاں کا احوال جو کراچی سے سفر کرتی ہوئی پشاور پہنچیں۔

اسی بارے میں