جمعہ تیرہ دسمبر کا سیربین

جمعہ تیرہ دسمبر کو نشر ہونے والے بی بی سی اردو سروس کے ٹی وی پروگرام سیربین کے چاروں حصے آپ اس صفحے پر دیکھ سکتے ہیں۔

سیربین ہفتے میں تین دن یعنی پیر، بدھ اور جمعے کو بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر لائیو نشر کیا جاتا ہے۔یہ پروگرام ایکسپریس نیوز پر بھی نشر کیا گیا تھا۔

عبدالقادر ملا کی پھانسی کے بعد احتجاج

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

بنگلہ دیش میں نيس سو اکہتر میں جنگی جرائم میں ملوث پائے جانے کے بعد پھانسی دیے جانے والے جماعت اسلامی کے رہنما عبدالقادر ملا کو جمعہ کو ان کے آبائی شہر میں دفنا دیا گیا ہے۔ پھانسی کے بعد تشدد کے واقعات میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ گھروں اور کاروباری مراکز کو نقصان پہنچا ہے۔ جماعتِ اسلامی نے اتوار کو ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ عبدالقادر ملا پر انيس سو اکہتر کي خانہ جنگي ميں انسانيت کے خلاف جرائم کے الزامات ثابت ہونے کے بعد انہيں پھانسي دي گئي ہے۔ اس لڑائي ميں لاکھوں غير مسلح شہريوں کا قتلِ عام اور ڈھاکہ کے قريب ميرپور ميں تقريباً دو لاکھ عورتوں کے ساتھ جنسي زيادتي کي گئي تھي۔ عبدالقادر ملا ہميشہ جرائم ميں ملوث ہونے کي ترديد کرتے رہے۔ تفصيل کے ساتھ عارف شميم

اسي بارے ميں اب سے کچھ دير پہلے ميں نے بات کي بي بي سي بنگالي سروس کے ايڈيٹر صابر مصطفي سے اور ان سے پوچھا کہ بنگلہ ديش ميں جماعت اسلامي کے رہنما عبدالقادر ملا کي پھانسی کو زيادہ تر لوگوں نے صحیح قرار دیا ہے لیکن عبدالقادر ملا کی پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ ایک عدالتی سے زیادہ سیاسی فیصلہ تھا۔ کيا يہ کہنا صحيح ہوگا؟

پشاور ہائی کورٹ کا ایف ایم ریڈیو سٹیشن

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

عراق میں گزشتہ چند مہینوں میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ خودکش حملوں سے پورے ملک میں ڈر کا ماحول پیدا ہوگیا ہے۔ اقوام متحدہ کا پناہ گزينوں سے متعلق ادارے کا کہنا ہے کہ عراق میں اس برس کئی ہزار خاندان اپنا گھر چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ بی بی سی کے احمد ماہر نے عراق کے جنوبی شہر بسرا سے یہ رپورٹ بھیجی ہے

گزشتہ دو برسوں ميں انڈيا کي معيشت سست روي کا شکار ہوئي ہے۔ ملک ميں مہنگائي کے ساتھ نوکريوں کے مواقع بھي کم ہوئے ہيں۔ خاص طور سے اُن نوجوانوں کے ليے جو يونيورسٹيوں سے ڈگري حاصل کر کے نوکري تلاش کر رہے ہيں۔ ليکن ساتھ ہي يہ بھي ديکھا گيا ہے کہ تربيت يافتہ کاري گروں کي کمي کي وجہ سے بڑي صنعتيں غير تربيت يافتہ کاري گروں سے کام کرانے پر مجبور ہيں۔ حکومت اس چيلنج سے نمٹنے کي کوشش کر رہي ہے کہ آيا ملک کي نوجوان آبادي کو کس طرح نوکري نہ ملنے کي مايوسي سے بچايا جائے۔ ممبئي سے يوگيتا ليمائے کي رپورٹ

انڈيا کے شہروں ميں بڑے بڑے شاپنگ مالز اور اونچي عمارتيں عام بات ہيں ليکن ان شاپنگ مالز اور بڑي رہائشي کالونيوں کے ليے جو زمين الاٹ کي جاتي ہے اس پر کئي اوقات يہ تنازعہ سامنے آيا ہے کہ ان عمارتوں کو بنانے کے ليے غريب لوگوں کو اپنے گھر چھوڑنے پڑتے ہيں۔ اس بار يہ مشکل اُن تين ہزار کٹ پتلي کے فن کاروں پر آپڑي ہے جو تقريبا پچاس سال سے دلي ميں واقع کٹ پتلي کالوني ميں رہتے ہيں اور اپنے فن کے ذريعے روزي روٹي کماتے ہيں۔ اب اس کٹ پتلي کالوني کي جگہ ايک بڑا شاپنگ مال بننے جا رہا ہے ليکن ان فن کاروں کا کہنا ہے کہ اِس سے وہ اور اُن کا فن دونوں بري طرح متاثر ہونگيں۔

صوبہ خیبر پختون خواہ میں پشاور ہائی کورٹ کے زیر انتظام پاکستان کے پہلے ایف ایم ریڈیو سٹیشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس سال شروع ہونے والا یہ جنوبی ایشیاء میں اپنی نوعیت کا پہلا ریڈیو سٹیشن ہے جو عدلیہ کے تحت قائم کیا گیا ہے۔ آخر عدلیہ کو ریڈیو سٹیشن کی ضرورت کیوں آن پڑی؟ یہ جاننے کی کوشش کی ہے ہمارے ساتھی رفعت اللہ اورکزئی نے اس رپورٹ میں

کمرشل انڈين سينما

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

بالی ووڈ دنيا کي سب سے بڑي فلمي صنعت ہے۔ ہر برس وہاں بننے والي سينکڑوں فلميں اربوں روپے کا کاروبار بھي کرتي ہيں۔ ان ميں سے بہت سي فلميں بڑي يادگار اور شاہکار ثابت ہوتي ہيں ليکن ايک بڑي تعداد محض نئي فلم ہونے کي خانہ پري کرکے گمنامي کے اندھيروں ميں ڈوب جاتي ہيں۔ فاروق شيخ بالی ووڈ کے ايک ايسے فلم ساز ہيں جنہوں نے سن ستر اور اسي کي دہائيوں ميں خالص سماجي موضوعات پر کامياب فلميں بناکر انڈيا ميں نيو ويو سينما کي بنياد رکھي۔ بالی ووڈ کي صد سالہ تقريبات کے تناظر ميں دلي ميں نامہ نگار سہيل حليم نے فاروق شيخ سے پوچھا کہ نيو ويو سينما کے خول سے باہر آکر ديکھا جائے تو وہ کمرشل انڈين سينما کو کہاں پاتے ہيں؟

میرا شہر لاہور

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

لاہور اپنے آپ میں مست رہنے والے کھانوں اور شغل میلے سے محبت کرنے والوں کا شہر ہے۔ جہاں زندگی کے سب ہی رنگ جلوہ گر ہیں۔ تاریخی شناخت رکھنے والے شہر سے جدت پسندی کا سفر لاہور کو کہاں لے آیا ہے۔

آئیے لاہور کو ديکھتے ہیں شمائلہ جعفری کی نظر سے۔۔

اسی بارے میں