اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پشاور:سکیورٹی وجوہات پر لوگوں کی نقل مکانی

پشاور اور اس کے مضافات ميں حاليہ دنوں ميں حکومت کے حامي امن لشکر کے اراکين اور سيکيورٹي اہلکاروں پر حملے خاصے بڑھ گئے ہيں۔

بارہ جنوري کو ہونے والے ايک حملے ميں اے اين پي کے رہنما مياں مشتاق سميت چار افراد مار ديے گئے۔ يکم فروري کو شدت پسندوں نے امن کميٹي کے ايک رکن اور تين پوليس اہلکاروں کو ہلاًک کرديا اور بارہ فروري کے حملے ميں امن لشکر کے ايک رکن اور ان کے خاندان کے نو افراد کو قتل کر ديا گيا۔

ان پےدرپے حملوں کے سبب پشاور کے گردونواح ميں طالبان کا خوف اتنا بڑھ گيا ہے کہ لوگ محفوظ مقامات کي طرف نقل مکانی کر رہے ہيں۔ دیکھیے رفعت اللہ اورکزئي کي رپورٹ