اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

’انتہائی خطرناک صورت حال پیدا ہو گئی ہے‘

تحریکِ طالبان مہمند ایجنسی کی جانب سے رات گئے ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے فرنٹئیر کور کے 23 اہل کاروں کو قتل کرنے کا دعوی کیا ہے جنھیں سنہ 2010 میں اغواء کیا گیا تھا۔

مہمند ایجنسی کے طالبان کی جانب سے جاری ہونے والا یہ بیان اتوار کو رات دیر گئے عمر خالد خراسانی کی طرف سے میڈیا کو ارسال کیا گیا۔

حکومت کی طرف سے طالبان کے اس تازہ ترین بیان پر کسی ردِ عمل کا اظہار تا حال سامنے نہیں آیا اور فوج کے پریس سے متعلق ادارے آئی ایس پی آر کی جانب سے اس خبر کی تصدیق نہیں کی گئی۔

افغان اور طالبان امور کے ماہر، حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن سینئیر صحافی رحیم اللہ یوسفزئی نے بی بی سی کی نامہ نگار نخبت ملک سے بات کرتے کہا ہےکہ توقع نہیں تھی کہ ایسا ہو گا یہ انتہائی پیچیدہ اور خطرناک صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔