اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

امن لشکر اپنے تحفظ کے لیے پریشان

صوبہ خيبر پختونخواہ اور قبائلي علاقوں ميں حکومت کي حامی امن کميٹيوں پر طالبان کے حملوں ميں چار سو سے زيادہ افراد مارے جا چکے ہيں۔ ليکن مالاکنڈ ڈويژن ميں کميٹيوں کے اراکين اپنے علاقوں کے دفاع کے ليے پرعزم ہیں۔ ان علاقوں ميں باقاعدہ طور پر سن دو ہزار آٹھ ميں لشکروں اور امن کميٹيوں کي تشکيل ہوئی۔ اور مالا کنڈ میں عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کے بعد اِن پر حملوں کا سلسلہ شروع ہو گيا۔ گزشتہ تين برسوں ميں اِن کے چار سو سے زيادہ ارکان ہلاک ہو چکے ہیں۔ سن دو ہزار تيرہ ميں حکومت نے اِن لشکروں کے اختيارات میں کمي کر دي تھی۔ صحافی انور شاہ نے ضلع بونیر میں ایک ایسے ہی لشکر کے حالات وہاں جا کر معلوم کرنے کی کوشش کی۔