جہاز کا ملبہ
اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

’حادثہ نہیں، دہشت گردی کی کارروائی تھی‘

جمعرات کو ملائشيئن ايئرلائن کے مسافر بردار طيارے کے يوکرين کے شورش زدہ علاقے ميں ڈھير ہو جانے کي مختلف وجوہات ہيں اور اس سے متعلق سوال بھي ہيں کہ ہوا کيا۔ روس اور یوکرین دونوں ايک دوسرے پر جہاز کو مار گرانے کا الزام لگا رہے ہیں۔

روس نواز جنگجوؤں نے جہاز گرنے کے مقام تک بین الاقوامی تفتیش کاروں کو رسائی دینے کي حامي بھري ہے۔ اس بدنصيب جہاز ميں سوار تمام مسافروں اور عملے سميت 298 افراد کي جان گئي۔