پولیو کی تاریخ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

جب سے انسانی معاشرہ وجود میں آیا ہے پولیو اسی وقت سے انسان کے ساتھ ساتھ ہے۔ تاہم انیسویں صدی میں مرض ایک وبا کی صورت میں امریکہ اور یورپ میں سامنے آیا۔ اس کے مریضوں میں نظامِ تنفس اور ریڑھ کی ہڈی مفلوج ہو جاتی ہے۔ تاہم جدید دور میں ویکسین کی مدد سے اس کا تقریباً مکمل خاتمہ ممکن ہو گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

1365 سے 1403 قبلِ مسیح کی جانے والی مصری کندہ کاری میں ایک مہنت نظر آ رہا ہے جس کے پاؤں مڑے ہوئے ہیں۔ یہ پولیو کی علامات میں سے ایک ہے۔ اس بیماری کی پہلی کلینیکل تشریح 1789 میں برطانوی طبیب مائیکل انڈر ووڈ نے کی، جبکہ اسے ایک بیماری کے طور پر 1840 میں جیکب ہین نے تسلیم کیا۔

جدید دور میں پولیو کی وبائیں صنعتی انقلاب کے نتیجے میں بننے والے شہروں کے نتیجے میں سامنے آئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

نیویارک میں 1916 پہلی بار وبا کی صورت میں پولیو پھیلا اور اس دوران اس کے 9000 کیس سامنے آئے اور اس کے نتیجے میں 2343 اموات واقع ہوئیں۔

امریکہ بھر میں 27000 کیس تھے اور 6000 اموات واقع ہوئیں جس کا بڑا شکار بچے تھے۔ پولیو کے بعض مریضوں کی آنکھیں بھی مفلوج ہو جاتی ہیں جیسا کہ تصویر میں دکھایا گیا ہے۔ اس صدی کے دوران بڑے پیمانے پر پولیو کی وبائیں سامنے آئیں اور 1952 میں امریکہ میں ریکارڈ 57628 کیس ریکارڈ ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

1928 میں ڈاکٹر فلپ ڈرنکر اور لوئی شا نے ’آئرن لنگ‘ یعنی آہنی پھیپھڑا کے نام سے مشین بنائی، جس کا مقصد ایسے افراد کی جان بچانا تھا جو نظامِ تنفس مفلوج ہو جانے کی وجہ سے پریشان تھے۔ اکثر مریضوں کو اس میں دو ہفتے کے قریب وقت گزارنا پڑتا تھا مگر جو مستقل مفلوج ہو گئے تھے انھیں ساری زندگی اس میں گزارنی پڑتی تھی۔

1939 میں 1000 کے قریب ایسی مشینیں امریکہ بھر میں زیرِ استعمال تھیں۔ آج آئرن لنگ کا استعمال بالکل ختم ہو چکا ہے اور اس کی وجہ ویکسین کا خاتمہ اور جدید وینٹی لیٹر ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اس حوالے سے بڑی کامیابی 1952 میں ڈاکٹر جوناس سالک (تصویر میں بائیں جانب) نے حاصل کی جب انھوں نے پہلی موثر پولیو ویکسین بنانی شروع کی۔ اس کے بعد عوام میں بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کے پروگرام شروع کیے گئے جن کا فوری اثر سامنے آیا۔ صرف امریکہ میں 1952 میں پولیو کے 35000 کیس تھے اور 1957 میں یہ کم ہو کر 5300 رہ گئے۔ 1961 میں البرٹ سبین (تصویر میں دائیں جانب) نے زیادہ آسانی سے دی جانے والی ویکسین OPV بنائی۔ یہ قطروں کی شکل میں تھی اور اسے پلایا جا سکتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ویکسین کی دستیابی کے باوجود پولیو بدستور خطرہ بنا رہا جس کے 1961 میں برطانیہ میں 707 شدید کیس دیکھے گئے جن کے نتیجے میں 79 اموات واقع ہوئیں۔ اگلے سال یعنی 1962 میں OPV کا استعمال شروع کیا گیا۔ 1982 کے بعد سے برطانیہ میں مقامی طور پر کوئی پولیو کا کیس سامنے نہیں آیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

1988 تک پولیو کا امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا اور یورپ کے زیادہ تر حصوں سے خاتمہ ہو چکا تھا۔ اس کے باوجود یہ 125 ممالک میں موجود تھی۔ اسی سال عالمی صحت کی اسمبلی نے اس بیماری کو 2000 تک مکمل طور پر ختم کرنے کی قرارداد منظور کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

عالمی صحت کی تنظیم نے امریکہ کے خطے کو 1994 میں پولیو سے پاک قرار دیا جس میں آخری پولیو کا کیس مغربی بحرالکاہل کے خطے میں 1997 میں سامنے آیا۔ 2002 میں عالمی ادارۂ صحت نے نے یورپی خطے کو پولیو سے پاک قرار دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

2012 میں بھی پولیو چار ممالک میں متعدی بیماری ہے جن میں افغانستان، نائجیریا، پاکستان اور بھارت شامل ہیں جو اس فہرست سے نکلنے کی حد پر تھا جس میں جنوری 2011 کے بعد سے کوئی پولیو کا کیس سامنے نہیں آیا ہے۔ ان کامیابیوں کے باوجود پولیو ایک خطرہ ہے۔ پاکستان سے 2011 میں وائرس چین منتقل ہوا جو ایک دہائی سے پولیو سے پاک ملک ہے۔