کرد فوجی
اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

’ترکی کردوں کو خطرہ سمجھتا ہے‘

ترکی کا کہنا ہے کہ اُس سے دولت اسلامیہ کے خلاف زمینی کارروائی کی توقع غير حقيقت پسندانہ ہے۔ انقرہ میں نیٹو کے نئے سربراہ سے ملاقات کے بعد ترک وزیر خارجہ نے شام کے ساتھ ترکي کي سرحد کو ’نو فلائی زون‘ قرار دینے کا مطالبہ بھي کیا۔

ادھر شام کے سرحدي قصبے کوباني کے گلي کوچوں ميں شديد لڑائي ہورہي ہے جہاں دولت اسلامیہ کے جنگجو ایک تہائی حصّے پر قابض ہو چکے ہیں۔

صورتِ حال کو بہتر طور پر سمجھنے کے ليے بی بی سی اردو کے شفیع نقی جامعی نے بي بي سي ترکش سروس کے نگراں مرات نشا نجہ الو سے بات کي اور پہلے يہ پوچھا کے دولت اسلاميہ يا آئي ايس ترکي کے دروازے پر جنگ کر رہي ہے ليکن کیا وجہ ہے کہ ترکي خاموش تماشائي ہے بنا ہوا ہے؟