اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

’جہادی گروہ 14 ممالک میں سرگرم‘

بی بی سی کی ایک تحقیق کے مطابق شدت پسند جہادی گروہ چودہ ممالک میں سرگرم ہیں اور صرف اس سال نومبر میں پانچ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

عراق، شام ، نائجیریا اور افغانستان سب سے زیادہ متاثر ، جہاں سب زیادہ ہلاکتیں القاعدہ، اس کی مختلف شاخوں اور اس کے نظریات کے حامی گروہوں کے ہاتھوں ہوئیں۔

القاعدہ اور اِس سے نکلنے والے گروہ اور تنظیمیں، القاعدہ سے ملتے جلتے نظریے کی تقلید کر رہے ہیں۔

ایک بڑا سوال، جہادی گروہوں میں اضافہ کیوں، کیا جدید ریاستیں شدت پسندی کے سامنے بے بس ہیں۔بی بی سی کے ریڈیو پروگرام سیربین میں ماہ پارہ صفدر نے تجزیہ کار عارف جمال، طفیل احمد سے بات کی ہے۔ عارف جمال اور طفیل احمد جو واشنگٹن میں قائم مڈل ایسٹ میڈیا ریسرچ انسٹیٹیوٹ سے وابستہ ہیں جبکہ عارف جمال کی جہادی کلچر پر قریبی نگاہ ہے، اور جہاد اور شدت پسندی کے موضوع پر کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔