اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

’ کامیابی کے لیے پالیسی میں تبدیلی ضروری‘

معروف محقق عارف جمال کا کہنا ہے کہ پاکستان میں عسکری اداروں اور ان سے منسلک دوسرے اداروں پر حملوں کے بعد دہشت گردوں سے فوری بدلہ لینے سے کوئی دیرینہ تبدیلی نہیں آئے گی بلکہ اس کے لیے دہشت گردوں کے بارے میں حکمت عملی میں جوہری تبدیلی لانا ضروری ہے۔

واضح رہے کہ پشاور کے آرمی پبلک سکول میں بچوں کے قتل عام کے بعد نہ صرف سکیورٹی فورسز کی طرف سے قبائلی علاقوں میں پڑے پیمانے پر کاروائیوں کی مسلسل خبریں آ رہی ہیں بلکہ حکومت کا بھی کہنا ہے کہ وہ اس دہش گردی سے نمٹنے کے لیے موثر اقدامات کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ بی بی سی کی نازیہ میمن نے واشنگٹن میں مقیم صحافی اور جہادی تنظیموں کے معروف محقق عارف جمال سے پوچھا کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور سیاسی قیادت کے اقدامات کس قدر موثر ثابت ہو سکتے ہیں؟