سکول کے باہر تعینات سکورٹی
اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

’اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی‘

سانحہ پشاور کے بعد سے بند، آرمی پبلک سکول موسمِ سرما کی تعطيلات کے بعد آج سخت حفاظتی انتظامات کے ساتھ دوبارہ کھل گيا ہے۔ سبز رنگ کے سوئٹر اور جيکٹوں ميں ملبوس يہ بچے جب خراماں خراماں سکول کو چلے تو اِن کے والدين کے دلوں ميں خدشات کا طوفان تھا۔ سولہ دسمبر کو طالبان شدت پسندوں نے اِس سکول پر حملہ کر کے ايک سو بتيس معصوم بچوں سميت ايک سو چاليس سے زيادہ لوگوں کو قتل کر ديا تھا۔ قتل ہونے والے ايک بچے حنيف آفتاب کي والدہ، عندليب آفتاب اِسی سکول ميں ايک ٹيچر ہيں۔ انہوں نے اِس المناک دن کا ذکر کچھ يوں کيا۔