اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

بلدیہ ٹاؤن: ’یہ کوئی تفتیشی رپورٹ نہیں ہے‘

کراچی کے بلدیہ ٹاؤن میں علی انٹرپرائز نامی فیکٹری میں گیارہ ستمبر 2012 کو ہونے والی آتشگزدگی میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 259 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ کراچی پولیس نے اس معاملے میں متاثرہ فیکٹری کے مالکان شاہد بھائیلہ اور ارشد بھائیلہ سمیت دیگر ذمہ دار ملازمین کو گرفتار کیا تھا جنھیں ہائی کورٹ نے ضمانت پر رہا کردیا تھا۔ جمعے کواس واقعے نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا جب سندھ ہائی کورٹ کو آگاہ کیا گیا ہے کہ بلدیہ فیکٹری کی آتشزدگی حادثہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک گروہ کا ہاتھ تھا۔

اس حوالے سے بی بی سی کے ریڈیو پوگرام سیربین میں عنبر خیری سے بات کرتے ہوئے لواحقین کے وکیل فیصل صدیقی کا کہنا تھا کہ عدالت میں پیش کی جانے والی رپورٹ کو سمجھنا بہت ضروری ہے کیونکہ یہ کوئی تفتیشی رپورٹ نہیں ہے۔