لاہور کا ادبی میلہ

تصویر کے کاپی رائٹ tapu javeri
Image caption لاہور میں ثقافتی اور ادبی سرگرمیوں میں شہریوں کی بڑی تعداد دلچسپی رکھتی ہے۔

پاکستان کے بے شمار سیاسی اور سماجی مسائل کے باوجود لاہور جنوبی ایشیا کے بڑے ادبی میلے کی میزبانی کر رہا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں بجلی کا بحران ہے اور شدت پسندوں کا تشدد جاری ہے آپ ایک ایسی تقریب کے انعقاد پر کیا سوچیں گے۔

پاکستان میں بات جب ثقافتی اور ادبی میلوں کی ہو تو لاہور سے بہتر کوئی اور جگہ نہیں ہو سکتی۔

آئندہ ہفتے مصنفوں، افسانہ نگاروں، ادیبوں، موسیقاروں اور اداکاروں کی کہکشاں لاہور میں چوتھے لاہور ادبی میلے کے لیے سجے گی۔ لاہور کا چوتھا ادبی میلہ بیس فروری کو شروع ہو کر تین دن تک جاری رہے گا۔

جنوبی ایشیا میں کئی ادبی میلے منعقد ہوتے ہیں۔ اس سال کے میلے کولکتہ اور کراچی میں منعقد ہوچکے ہیں لیکن لاہور کے میلے کے بارے میں مبصرین کہتے ہیں کہ خطے کے افق پر ایک ستارہ نمودار ہو گیا ہے جس کی چمک جے پور کے میلے سے ذرا کم ہے۔ بھارت کے شہر جے پور میں چند دن قبل ہی جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا ادبی میلہ منعقد ہوا ہے جس میں ڈھائی لاکھ لوگوں نے شرکت کی تھی۔

لاہور مغلیہ سلطنت ، سکھوں کے عہد اور برطانوی راج کے دوران ثقافتی، سماجی ، شعوری اور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے اور جدید دور میں بھی پاکستان کا ایجنڈہ طے کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

اس شہر کے طرز تعمیر، ثقافت اور پکوانوں میں ان تینوں ادوار کی جھلک نمایاں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption لاہور کا شہر اپنی تاریخی عمارتوں کی وجہ سے مشہور ہے

بہار کی آمد پر بسنت روایتی طور پر پتنگ بازی کرکے منائی جاتی تھی لیکن پتنگ بازی کے دوران بچوں کی ہلاکتوں کے بعد اس پر پابندی عائد کر دی گئی۔ اب یہ ادبی میلہ ہے جو لاہور کے رہنے والوں کو اور ان گنت سیاحوں کو بہار کی آمد پر بسنت منانے کا موقعہ فراہم کرتا ہے۔

اس طرح کے میلے کا اہتمام کرنا ایک ایسے ملک میں آسان کام نہیں ہے جو بے شمار سیاسی مشکلات ، دہشت گردی، توانائی کے بحران اور حال ہی میں پیٹرول کی قلت جیسے مسائل میں گھرا ہوا ہو۔

چند ادیبوں کو ملک میں خطرہ ہے، کچھ ملک سے باہر رہنے پر مجبور ہیں گو کہ ان کے موضوعات پاکستان کے گرد ہی گھومتے ہیں۔ گزشتہ سال کے لاہور کے ادبی میلے میں پچاس ہزار لوگوں نے شرکت کی تھی جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ لاہور کے لوگ ان گوناگوں مسائل سے حوصلہ ہارنے والے نہیں۔

غیر ملکی ادیبوں کو یہ باور کرنا پڑا کہ لاہور دہشت گردی کا گڑھ نہیں ہے اور شہر کا وجود خطرے میں نہیں ہے۔ اس تاثر کے برعکس شہر پھل پھول رہا ہے ملک کے دوسرے حصوں سے نسبتاً محفوظ ہے گو کہ دہشت گردی کی دھمکیاں ملتی رہتی ہیں۔ تقریبات کے مقامات کی سیکیورٹی کے لیے شہری حکام اور پولیس کے درمیان مستقل رابطے ہیں۔

اس کے باوجود بہت سے ادیبوں نے اپنے ملکوں کی طرف سے دی جانے والی سفری ہدایات کی روشنی میں نہ آنے کا فیصلہ کیا لیکن بہت سوں نے اس خلا کو پر کر دیا۔ اس سال گنے چنے ادیبوں ہی نے شرکت نہ کرنے فیصلہ کیا ہے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ میلہ بھرپور طریقے سے منعقد ہو گا۔

میلہ جو الحمرا میں منعقد ہو گا اس کے پچہتر سیشن کھچا کھچے بھرے ہوں گے اور چار پانچ مختلف ایونٹس ایک ساتھ چل رہے ہوں گے۔ میلے کی شامیں پاکستانی موسیقی، کلاسیکی، لوک، راک، اور پاپ سے سجائی جائیں گی۔

بھارت کی سرکردہ تاریخ داں رومیلا تھاپر افتتاحیہ پیش کریں گی اور ان کا تعرف بین الاقوامی شہرت کی حامل پاکستانی ادیبہ عائشہ جلال کرایں گی۔ ملک کے ابتدائی دور میں پاکستان کو اپنی تاریخ کے لیے غیر ملکی مصنفیں کی طرف دیکھنا پڑتا تھا۔ لیکن اب ہر سال پاکستانی دانشورں کی جامع اور ٹھوس تحقیق پر مرتب کردہ کتابیں سامنے آتی ہیں جنھیں لاہور کے ادبی میلے میں پیش کیا جاتا ہے۔

گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان نے عالمی معیار کے افسانہ نگار اور مصنف پیدا کیے ہیں جن میں محمد حنیف، کاملا شمسی، دانیال محی الدین، ندیم اسلم اور دوسرے بڑے نام شامل ہیں۔ جب ان میں سے کسی کی کتاب سامنے آتی ہے جس طرح اس سال محسن حامد کی کتاب سامنے آ رہی ہے اس پر اس میلے میں انٹرویو ہوتے ہیں اور کئی سیشن منعقد ہوتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ tapu javeri
Image caption ادبی میلے کو کامیاب بنانے کے لیے لوگ رضاکارانہ طور پر کام کرتے ہیں۔

اب نئی نسل کے ادیب سامنے آنے لگے ہیں جن کے ناول اور کہانیوں کے مجموعے پچھلی نسل کے منصفیں سے بہت مختلف ہیں۔

دنیا بھر کے درجن سے زیادہ ملکوں سے تعلق رکھنے والے منصف جن میں بھارت کے مصنفوں کی بڑی تعداد شامل ہے اس سال کے میلے میں شریک ہو رہے ہیں۔

اس میلے میں ایک ساتھ افسانہ نگاری اور اردو شعری کی نشستیں ہوں گی اور اردو زبان کے کالم نگار جن کے قارئین کی تعداد کروڑوں میں ہے بہت سی نشستوں میں ہونے والی بحث میں اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ پنجابی اور سرائیکی میں بھی نشستیوں منعقد کی جائیں گے جس سے یہ یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی کہ مقامی زبانیں پیچھے نہ رہ جائیں۔

پاکستانیوں میں پڑھنے کی عادت کی شرح مایوس کن حد تک کم ہے اور ادبی میلے میں قارئین اور مصنفوں کو آمنے سامنے لانے کا ایک فائدہ تو پڑھنے والوں کی شرح میں بہتری کی صورت میں سامنے آیا ہے۔

لاہور کے بزرگ شہریوں سے لے کر کالج کے طالبہ تک اس میلے کو کامیاب بنانے کے بارے میں جوش و خروش اور اس کے انتظامات میں رضاکارانہ شرکت بھی اس بات کی غماز ہے کہ کس طرح یہ میلہ ایک کروڑ بیس لاکھ افراد کے اس شہر کو قریب لا رہا ہے۔

لاہور صرف طرز تعمیر کا شاہکار نہیں اب کتابوں کی دانش کے فروغ میں بھی شریک ہے۔