اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ہاشم پورہ میں بیالیس افراد کو کس نے مارا؟

بھارت کی ایک عدالت نے گزشتہ دنوں اتر پریش کے ان سبھی سولہ پولیس اہلکاروں کو ناکافی ثبوتوں کے سبب بری کر دیا جن پر 42 مسلمانوں کو گولی مار کر ہلاک کرنے کا الزام تھا ۔ 1987میں میرٹھ میں ہندو مسلم فسادات کے دوران سینکڑوں مسلمانوں کو حراست میں لیا گیا تھا ۔ ان میں سے 42 کی لاشیں ایک نہر میں پائی گئی تھیں ۔ کئی بچ جانے والون نے بتایا تھا کہ انہیں نیم فوجی دستے پی اے سی کے اہلکاروں نے گولی مارکر ایک نہر میں پھینک دیا تھا ۔ متاثرین اور سول سوسائٹی نے عدالت کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ چشم دید گواہوں ، تصویروں اور ثبوتوں کے باوجود ملزم پولیس اہلکاروں کو بچانے کے لیے دانستہ طور پر قتل عام کے اس کیس کو کمزور کیا گیا ہے ۔ ملزموں کو بری کیے جانے کے فیصلے سے انصاف کے عمل میں مسلمانوں کے اعتماد کو دھچکا پہنچا ہے۔ دلی سے ہمارے نامہ نگار شکیل اختر کی رپورٹ ۔