’جوکووچ اگلے چند سال ٹینس پر حکمرانی کریں گے‘

نواک جوکووچ
Image caption ٹینس کے نمبر ایک کھلاڑی جوکووچ اس مرتبہ ٹورنامنٹ میں اپنے اعزاز کا دفاع کر رہے تھے اور مجموعی طور پر یہ تیسرا موقع ہے کہ جوکووچ ومبلڈن جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں

ٹینس کے سابق عالمی نمبر ایک جان میکنرو کا کہنا ہے کہ ومبلڈن چیمپیئن نواک جوکووچ اگلے دو برس میں ’مزید چار سے پانچ گرینڈ سلام ‘ جیتیں گے۔ اتوار کو کھیلے جانے والے میچ میں اٹھائیس سالہ جوکووچ نے ایک کے مقابلے میں تین سیٹس سے فتح حاصل کی اور فیڈرر کی سب سے زیادہ مرتبہ ٹورنامنٹ جیتنے والا کھلاڑی بننے کی خواہش پوری نہ ہونے دی۔

دنیائے ٹینس کے نمبر ایک کھلاڑی جوکووچ اس مرتبہ ٹورنامنٹ میں اپنے اعزاز کا دفاع کر رہے تھے اور مجموعی طور پر یہ تیسرا موقع ہے کہ جوکووچ ومبلڈن جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

میکنرو خود بھی تین مرتبہ ومبلڈن جیت چکے ہیں اور بی بی سی سپورٹس سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’نواک اپنے عروج پر ہیں اور ایسا نہ سوچنا مشکل ہے کہ وہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتے جا رہے ہیں۔‘

گرینڈ سلیم میں فتوحات
کھلاڑی تعداد
راجر فیڈرر 17
نڈال، سمپراس 14
روئے ایمرسن 12
راڈ لیور، بیورن بورگ 11
بِل ٹِلڈن 10
نواک جوکووچ 9

’اگر ان کی صحت ٹھیک رہی تو وہ اگلے چند سال (اس کھیل پر) حکمرانی کریں گے۔‘

جوکووچ عالمی رینکنگ میں گذشتہ 53 ہفتوں سے نمبر ایک کی پوزیشن پر ہیں۔ وہ اس سال تین گرینڈ سلام جیت چکے ہیں جبکہ انہیں فرینچ اوپن کے فائنل میں شکست ہوئی تھی۔

میکنرو کا کہنا تھا کہ ’وہ میرے سرفہرست پانچ پسندیدہ کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔ میرے سرفہرست چار پسندیدہ کھلاڑیوں میں راڈ لیور، پیٹ سمپراس، راجر اور نڈال شامل ہیں۔ نواک نمبر پانچ پر ہیں اور آگے بڑھ رہے ہیں۔‘

’نواک نے ابھی ان کھلاڑیوں جتنے گرینڈ سلام نہیں جیتے ہیں لیکن میرے خیال میں ان کی گرینڈ سلام جیتنے کی تعداد تیزی سے بڑھے گی۔‘

جوکووچ نے سنہ 2003 میں پروفیشنل ٹینس کا آغاز کیا تھا اور سنہ 2011 ان کے لیے بہترین سال تھا جس میں انہوں نے آسٹریلیں اوپن، ومبلڈن اور یو ایس اوپن میں فتح حاصل کی تھی۔