ہوٹلوں سے جوڑوں کی گرفتاری پر غم و غصہ

ممبئی میں سمندر کنارے بیٹھا ہوا ایک جوڑا تصویر کے کاپی رائٹ Getty

ممبئی میں مختلف ہوٹلوں سے کئی جوڑوں کو ’غیر اخلاقی طرز عمل‘ کے الزام میں گرفتار کرنے پر مختلف اخباروں اور سوشل میڈیا پر ممبئی پولیس پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

ممبئی پولیس نے گذشتہ ہفتے شہر کے مختلف ہوٹلوں پر چھاپے مار کر 20 سے زیادہ غیر شادی شدہ جوڑوں کو گرفتار کیا تھا۔

میڈیا پر آنے والی خبروں کے مطابق ان جوڑوں کو چھاپوں کے دوران ’بے عزت‘ کیا گیا۔ ان چھاپوں کو ’اخلاقیات نافذ کرنے‘ کی کوشش اور ’لوگوں کی خلوت پر حملے‘ کہا جا رہا ہے۔

میڈیا میں یہ خبریں بھی ہیں کہ ان میں سے کئی جوڑوں کو ’صدمہ‘ پہنچا ہے۔

مِڈ ڈے اخبار سے بات کرتے ہوئے ایک 19 سالہ لڑکی کا کہنا تھا کہ ’اس کے بعد سے میں نے گھر سے باہر قدم نہیں نکالا ہے اور آج صبح سے میرے والدین نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی ہے۔۔۔۔ میں جسم فروش نہیں ہوں۔ میں بالغ ہوں جو اپنے منگیتر کے ساتھ تھی جس سے میری اگلے ماہ شادی ہونے والی ہے۔‘

ممبئی کے پولیس کمشنر راکیش ماریا نے ان چھاپوں کی تحقیق کا حکم دے دیا ہے۔

ایک اخبار سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اگر دو بالغ افراد اپنی مرضی سے ایک ہوٹل کے کمرے میں موجود ہوں تو اس سے ہمیں کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے۔‘

لیکن پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ چھاپے اس لیے مارے کیوں کہ انہیں اکسا بیچ کے رہائشیوں کی جانب سے وہاں چند ہوٹلوں میں ’کھلے عام غیر اخلاقی عمل‘ کی شکایات موصول ہوئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کے قانون کے مطابق پولیس عوامی مقامات پر ’غیر اخلاقی طرز عمل‘ پر کسی کو حراست میں لے سکتی ہے لیکن ہوٹل کے کمرے پرائیویٹ سمجھے جاتے ہیں۔‘

مِنٹ‘ نامی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ ’ایسا کوئی قانون نہیں ہے جو غیر شادی شدہ جوڑے کو کسی ہوٹل میں کمرہ لینے سے روکتا ہو۔‘

’غیر اخلاقی چھاپے‘

بزنس سٹینڈرڈ ڈیلی میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ ’کسی ایسے شخص کے ساتھ کمرے میں ہونا جس سے آپ محبت کرتے ہوں کوئی جرم نہیں پھر چاہے آپ شادی کے مقدس رشتے میں ہوں یا نہ ہوں۔ بلکہ آپ جس کے ساتھ چاہیں کمرے میں جائیں، جس مرضی مقصد کے لیے جائیں اور جب تک وہاں موجود سب کی رضا مندی ہو اس وقت تک اسے جرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘

اخبار دی انڈیئن ایکسپریس کا کہنا تھا کہ پولیس نے لوگوں سے یہ پوچھ کر غلط کیا کہ ’وہ ہوٹل کے کمروں میں کیا کر رہے تھے‘

اخبار کا کہنا تھا ’جس انداز میں یہ چھاپے مارے گئے وہ ممبئی پولیس کے تعصب اور اخلاقیات کی عکاسی کرتا ہے۔ مثال کے طور پر ان تمام خواتین کو یہ ثابت کرنے پر مجبور کیا گیا کہ وہ ’جسم فروش‘ نہیں ہیں۔‘

سوشل میڈیا پر بھی ان ’غیر اخلاقی‘ چھاپوں پر بہت تنقید کی جا رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ twitter
تصویر کے کاپی رائٹ vishal dadlani
تصویر کے کاپی رائٹ kailash kher

تاہم بی جے پی کی شائنا این سی کی طرح ٹوئٹر پر چند افراد نے پولیس کے اس اقدام کا دفاع کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ shaina
تصویر کے کاپی رائٹ akash

اسی بارے میں