اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

تباہی ہوئی لیکن امید میں دراڑ نہیں پڑی

آٹھ اکتوبر کو زلزلے کے بعد ہر طرف تباہی تھی۔ سکول، طبی سہولیات، سڑکیں، پل سب ہی ٹوٹ پھوٹ چکے تھے۔ متاثرہ علاقوں میں افراتفری تھی۔ پلک جھپتے ہی ہزاروں ہلاک اور سینکڑوں لاپتہ ہو گئے۔ انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس کے اعدادود شمار کے مطابق صرف مظفر آباد، باغ، پونچھ، کوٹلی، مانسہرہ، بٹگرام اور گجرات کے اضلع سے پانچ سو سے زیادہ افراد لاپتہ تھے۔ دس سال بعد بھی ان میں سے 228 نہیں ملے لیکن ان کے والدین نے ابھی تک امید کا دامن نہیں چھوڑا۔ مظفر آباد سے عنبر شمسی کی رپورٹ