ملالہ یوسفزئی
اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

’ضربِ قلم‘ کی بھی ہمیں شدید ضرورت ہے: ملالہ

آرمی پبلک سکول کے سانحے کو ایک برس ہو گیا ہے۔ اس وقت پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے فیصلہ کیا تھا کہ اب بلا تفریق آپریشن کیا جائے گا۔ برطانیہ کے شہر برمنگھم میں مقیم نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی سے ہمارے ساتھی عادل شاہ زیب نے ملاقات کي اور ان سے پوچھا کہ کیا آپ سمجھتی ہیں کہ پشاور میں آرمی پبلک سکول کے سانحے کے ایک برس بعد بھی پاکستان کے سکولوں کے بچے محفوظ ہیں؟