دنیا کی خوبصورت ترین جھونپڑیاں؟

بہت سے لوگوں کو اپنی پسند کی کسی پرسکون جگہ کی تلاش ہوتی ہے۔ کوئی ایسی جگہ جو دنیا سے بالکل الگ تھلگ ہو اور جہاں بیٹھ کر کوئی ناول لکھا جا سکے یا پھر کوئی البم یا پیار بھرے نغمے ترتیب دیے جا سکیں۔

ایک نئی کتاب میں ایسے تمام لوگوں کی تخلیقات کا ذکر کیا گیا ہے جنھوں نے اپنے خوابوں کو حقیقت کی شکل دی۔

کتاب میں موجود اس کیبن کو دیکھنے کے لیے آپ کو گرین لینڈ کے ساحل سے ذرا دور جزیرے کلوسوک جانا پڑے گا، جو قطب شمالی دائرے کے جنوب میں واقع ہے۔

اسے بہت صفائی کے ساتھ پتھروں پر زمین سے تھوڑا اٹھا کر بنایا گیا ہے، جس کے اطراف میں برف بھی تیر رہی ہے۔

کیبن پورن نامی اس کتاب کو صحافی سٹیون لیکارٹ اور ویب سائٹ کے مالک زیک کلائن نے نیویارک کی فوریسٹ کمیونٹی بیور بروک سے متاثر ہو کر ترتیب دیا ہے۔ اس کمیونٹی کے رہائشی تخلیقی تعمیرات کی حوصلہ افزائی کرنے کےلیے ان گھروں کی تصاویر آن لائن شیئر کرتے رہے ہیں۔

سٹیون لیکارٹ کا کہنا ہے کہ یہ تمام کیبن طرز تعمیر کی سادہ ترین مثال ہیں، جنھیں ہر کوئی سیکھ کر دوبارہ تعمیر کر سکتاہے۔

سٹیون لیکارٹ کتاب میں شامل کیے جانے والے ان تمام کیبنوں پرگئے جو امریکہ میں واقع ہیں تاکہ ان مکانوں کی پراسراریت کو ختم کیا جا سکے۔

انھوں نے ریاست آئڈہو کے علاقے سینڈ پوائنٹ کے قریب پتھریلے پہاڑوں کے درمیان ٹری ہاؤس بھی تلاش کر لیا جو زمین سے 30 فٹ اوپر بہت آہستہ آہستہ پروان چڑھنے والے دیودار کے جھنڈ میں کھڑا ہے۔

اسے تعمیر کرنے کے لیے ایتھن شلوسر نے لکڑی کے ستونوں کو عمودی انداز میں درخت کے تنے کے گرد دھات کی تاروں سے مضبوطی سے باندھا ہے اورانھی تاروں کو مکان تک سائیکل لانے کے راستے کے لیے بھی استعمال کیا ہے۔

یہ کیبن امریکی کے انتہائی جنوب میں واقع ریاست ایریزونا کے علاقے سکاٹس ڈیل میں ڈیو فرازی نے فرینک لائڈ رائٹ سکول آف آرکیٹیکچر میں تعلیم حاصل کرنےکے دوران تعمیر کیا تھا۔

یہ کیبن دراصل سکول کے احاطے میں طلبہ کی بنائی ہوئی ان تعمیرات میں سے ایک ہے جسے 1937 میں سکول کے بانی رائٹ نے خرید لیا تھا۔

2007 میں ہائکنگ کے دوران فرازی کی نظر اس پرانی طرز کے شکستہ حال کیبن پر پڑی جس کی چمنی ابھی تک قائم تھی۔

پھر 2011 میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے ساتھ انھوں نے اس کیبن کو اپناڈیزائن دینا شروع کر دیا جس میں شیشے کا ایک کمرہ اور پلائی وڈ اور سرخ لکڑی کا استعمال شامل ہیں۔

اور جب 2014 میں فرازی اس کیبن کو دوبارہ دیکھنے گئے تو انھیں یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ کیبن اسی حالت میں تھا جیسا وہ اسے چھوڑ کر گئے تھے۔

امریکا کے علاوہ سکینڈی نیویا اور شمالی یورپ کے لوگوں میں بھی لاجز بنانے کا شوق ہے اور ان علاقوں میں موجود حسین تعمیرات بھی کتاب کا حصہ ہیں۔

سوئس ایلپس میں پتھر سے بنے 200 سال پرانے اس گرمائی مکان کو 2011 میں بوچر برنڈلر آرچی ٹیکٹن نے دوبارہ تعمیر کیا تھا۔

اور یہ ہے مشرقی جرمنی کی پہاڑیوں پر تعمیر ترچھا مکان۔ چیک رپبلک کی سرحد سے قریب اس چوکور مکان کو دیکھ کر لگتا ہے کہ جیسے پہاڑی کی ڈھلان پر رکھا ہوا ہو۔

کورن وال کے علاقے پینزانسے کے قریب بوڈریفائی فارم پر راؤنڈ ہاؤس یا گول مکان لوہے کے زمانے کی یاد دلاتا ہے۔ اس مکان کی دیواروں کو گرینٹ اور چھت کو گھانس پھونس سے بنایا گیا ہے۔ مکان کی چوڑائی اور اونچائی تقریباً 13 میٹر ہے۔

چھٹیوں کے دوران مختلف سکول اس گول مکان کے قریب آثار دیکھنے آتے ہیں، جبکہ گرمیوں کے موسم میں اسے چھٹیاں گزارنے اور قیام کرنے کے لیے کرائے پر بھی لیا جاسکتاہے۔

فارم کی مالکن ایما مستل مکان کی اندرونی چھت کا گرجا کی چھت سے موازنہ کرتی ہیں، جس میں لکڑی کے شہتیروں کو اوپر ایک پیچیدہ گول گچھے سے سہارا دیا گیا ہے۔

اگر گول گھروں کی بات ہو رہی ہے تو سکاٹ لینڈ کے علاقے ڈمفرائس اینڈ گالووے میں الیک فارمر اور یولا جیرو کا بنایا ہوا یہ خیمہ نما مکان کا ذکر کرنا بھی لازم ہے۔

کتاب میں اس گھر کو ’آپ کے خوابوں کی پرسکون جگہ‘ کہا گیا ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ یہ پرسکون جگہ پرتعیش بھی ہو، کیونکہ یہ مکان دراصل رپبلک آف آئرلینڈ میں لینین کے مقام پر کلاری بندرگاہ کے ساتھ بناہوا ایک مچھیرے کا گھر ہے۔

اور شمالی ویلز کے علاقے ماچینلیتھ میں بانی پر بنےاس گھر میں ایک کشتی ہی آپ کو خشک رکھ سکتی ہے۔

اور آخر میں یہ ڈوبتا ہوا کیبن دراصل ایک بوٹ ہاؤس ہے جسے جنوبی جرمنی کے علقے باواریا میں اوبرسی کے شفاف پانی پر بنایا گیا ہے۔