اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

’پہلے ڈرتی تھی، اب رکشہ دوڑاتی ہوں‘

پاکستان میں پبلک ٹرانسپورٹ اور خواتین کے درمیان رشتہ کبھی بھی زیادہ خوشگوار نہیں رہا اور آئے روز خواتین کو شہروں میں عوامی ذرائع آمد ورفت کے اتعمال میں عدم تحفظ کا سامنا رہتا ہے۔

ان مسائل کا مقابلہ کرنے کےلے کچھ عرصے سے ایسی کمپنیاں بھی منظر عام پر آ رہی ہیں جنھوں نے سٹیئرنگ خود خواتین کے اپنے ہاتھ میں دے دیا ہے۔ ان کمپنیوں میں سے ایک ’ٹریویلی‘ بھی ہے۔

ہماری ساتھ فی فی ہارون نے ٹریویلی کے بانی فیصل شیرجان اور ان کی کمپنی کی خواتین ڈرائیوروں سے ایک خصوصی گفتگو کی۔ سنیے فیصل شیرجان اور ان کی کمپنی کی ’رکشہ رانیاں‘ کیا کہتی ہیں۔