اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

’کبھی میں بیٹے کا سوچتی ہوں، کبھی بیٹی کا‘

چوبیس سالہ صحافی زینت شہزادی کو گذشتہ برس لاہور میں ان کے گھر کے باہر سے اغوا کر لیا گیا ـ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ انہیں شک ہے کہ زینت کو خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔پاکستان میں جبری گمشدگیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات پر اندرونی اور بیرونی دباؤ کی وجہ سے حکومت نے اس کے حل کے لیے 2011 میں ایک خصوصی کمیشن قائم کیا تھا۔

اس کمیشن کے پاس 3000 سے زیادہ کیس تھے جن میں سے اب تک 1300 سے زیادہ کو حل نہیں کیا جا سکا۔ صرف فروری کے مہینے میں ہی 70 کے قریب نئے کیس کمیشن کے سامنے پیش کیے گئے۔ زینت کا نام بھی اب اس فہرست میں شامل ہو چکا ہے۔ لیکن اب تک ان کے گھر والوں کو کوئی خبر نہیں دی گئی۔ اور ان پر کیا بیت رہی ہے؟ دیکھیے صبا اعتزاز کی اس خصوصی رپورٹ میں۔