اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

’ایماندار نہیں تو قرض نہیں ملے گا‘

دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں کی نسل در نسل غربت کی دلدل میں پھنسے رہنے کی ایک بڑی وجہ بینکوں میں ان کے پاس گروی رکھوانے کے لیے اثاثوں کا نہ ہونا ہے۔

تھائی لینڈ میں اس مسئلے کو حل کرنے کا بیڑا بدھ مت کے پیروکاروں یا بھکشوؤں نے اٹھا لیا ہے جو مذہبی رہنمائی کے علاوہ ملک کے دیہاتوں میں غریب لوگوں کو چھوٹے قرصے فراہم کر رہے ہیں۔

ملک کے ایک بڑے مندر سے منسلک بھکشو فرا سبین پریتو نے اس کام کا آغاز برسوں پہلے ایک دیہات میں امداد باہمی کے اصولوں کے تحت کیا تھا اور ان کا مقصد مقامی سطح پر ایسا نظام بنانا تھا کہ لوگ اپنی روز مرہ ضروریات کے لیے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی بجائے اپنی مشترکہ بچت پر انحصار کریں۔

ان کا یہ چھوٹا سا پراجیکٹ اب ایک باقاعدہ بینک کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

یہ ’بدلتی سوچ، بدلتے انداز‘ کے سلسلے کی ساتویں مختصر وڈیو ہے اور 16 وڈیوز پر مشتمل اس سلسلے کے لیے ہم سکول فاؤنڈیشن (Skoll Foundation ) کے تعاون کے مشکور ہیں۔