’بالی وڈ باکس آفس پر ہُن برس سکتا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Fox Star Studios universal pr spice pr

سنہ 2016 کے ابتدائی چھ ماہ فلموں کی کمائی کے معاملے میں بالی وڈ کے لیے انتہائی کمزور ثابت ہوئے اور اس دوران صرف دو فلمیں ’ایئرلفٹ‘ اور ’ہاؤس فل 3‘ ہی 100 کروڑ سے زیادہ کا بزنس کر سکیں۔

تاہم چھ جولائی کو ’سلطان‘ کی ریلیز کے ساتھ ہی آئندہ چھ ماہ میں باکس آفس پر فلم سازوں کی چاندی ہونے کے آثار ہیں۔

’سلطان‘ نے ریلیز کے تین دن میں 100 کروڑ کا ہندسہ عبور کر لیا ہے اور فلمی صنعت کے پنڈتوں کا خیال ہے کہ 90 کروڑ کے بجٹ میں تیار ہونے والی یہ فلم قریباً 300 کروڑ کا کاروبار کر سکتی ہے۔

ممبئی سے صحافی سنجے مشرا کے مطابق فلمی ناقد جے پرکاش چوكسے کہتے ہیں ’چاہے اس سال کی پہلی ششماہی بالی وڈ کے لیے کمزور رہی ہو لیکن آنے والے چھ ماہ بہت اچھے ہونے والے ہیں کیونکہ موہنجودڑو، رستم، اے دل ہے مشکل، بےفكرے اور دنگل جیسی بڑی فلمیں اب ریلیز ہوں گی۔‘

سلطان کے بعد بڑے پردے پر دکھایا جائے گا اداکار عرفان خان کو جو اپنی فلم ’مداري‘ کی تشہیر پورے زور و شور سے کر رہے ہیں۔

15 جولائی کو ریلیز ہونے والی ’مداري‘ ایک چھوٹے بجٹ کی فلم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ UTV
Image caption رتیک ’بینگ بینگ‘ کے دو برس بعد اب ’موہنجودڑو‘ میں نظر آئیں گے

فلم مبصر پراگ چھاپیكر کا کہنا ہے کہ ’عرفان کو پسند کرنے والی ایک کلاس ہے۔ وہ انھیں دیکھنے آئیں گے ہی، چھوٹے بجٹ کی اس فلم کو اگر ناظرین کی ماؤتھ پبلسٹی ملی تو فلم کے خالق ایک ہفتے میں ہی مالا مال ہو جائیں گے۔‘

اس کے بعد 29 جولائی کو ریلیز ہو رہی ہے ورون دھون، جان ابراہم اور جیکولین کی مسالا فلم ’ڈھشوم۔‘ قریباً 22 کروڑ کے بجٹ میں بنی اس فلم کے بارے میں بات کرتے ہوئے پراگ کہتے ہیں، ’اس فلم کو ایک فائدہ ہے کہ اس کے ساتھ کوئی بڑی فلم ریلیز نہیں ہو رہی ہے۔ فلم میں کرکٹ اور ایکشن کا تڑکا بھی ہے۔ ایسے میں کسی بڑی فلم کا نہ ہونا اس فلم کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔‘

ہندی باکس آفس کے لیے اگلی بڑی تاریخ 12 اگست ہو گی جب رتیک روشن کی ’موہنجو دڑو‘ اور اکشے کمار کی ’رستم‘ ریلیز ہوں گی۔

فلم مبصر اور تجزیہ کار روی بُلے کہتے ہیں، ’موہنجودڑو ایک بڑی فلم ہے۔ رتیک سنہ 2014 میں آنے والی ’بینگ بینگ‘ کے بعد اب نظر آئیں گے۔ 100 کروڑ کے بجٹ کی اس فلم سے اشوتوش اور رتیک کی جوڑی جس نے ’جودھا اکبر‘ جیسی ہٹ فلم دی تھی، واپسی کر رہی ہے تو اس فلم کو کم نہیں کہہ سکتے۔

اکشے کمار کو دیکھنے کے لیے لوگ سینما گھروں تک جاتے ہیں جس کا ثبوت ہے ’ایئرلفٹ‘ اور ’ہاؤس فل 3‘ کی کامیابی۔ ایسے میں ان کی فلم ’رستم‘ کا مستقبل بھی روشن لگتا ہے۔

روی بُلے کے مطابق ان کے علاوہ ٹائيگر شیروف کی ’فلائنگ جٹ‘ بھی ایک بڑی فلم ہے۔

ستمبر کے مہینے میں پہلے ریلیز ہو گی سوناکشی سنہا کی فلم ’اکیرا‘۔ سوناکشی 2015 میں فلم ’تیور‘ کے بعد سے دکھائی نہیں دی ہیں مگر اس فلم میں وہی مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں اور ہدایتکار انوراگ کشیپ ولن کے کردار میں دکھائی دیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Aamir Khan
Image caption سال کا سب سے بڑا دھماکہ عامر خان کی فلم ’دنگل‘ سے ہوگا جو 23 دسمبر کو ریلیز ہو گی

30 ستمبر کو ریلیز ہوگی دھونی کی بایو پک ’ایم ایس دھونی: دی ان ٹولڈ سٹوری‘ اور مبصر روی بُلے کا کہنا ہے کہ ’دھونی اپنے آپ میں ایک سٹار ہیں۔ ایسے میں یہ فلم متوجہ تو کرے گی لیکن سشانت سنگھ راجپوت اکیلے کتنی کمائی کر پائیں گے یہ کہا نہیں جا سکتا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ حال ہی میں ’ کرکٹ سٹار اظہر الدین پر بنی فلم بری طرح فلاپ رہی، ایسے میں دھونی کی کامیابی پر تھوڑا شک ہے۔‘

28 اکتوبر ہندی باکس آفس پر ایک ایسی تاریخ ہے، جب دو بڑی فلمیں ’شوائے‘ اور ’اے دل ہے مشکل‘ کا ٹکراؤ ہوگا۔

روی بُلے کے مطابق، ’اجے دیوگن کی شوائے ایک سرپرائز پیکج ہو سکتی ہے۔ ابھی تک اجے دیوگن کے اس جنگل مین شو کی کہانی کو سامنے نہیں لایا گیا، لیکن کرن جوہر جس فلم سے بطور ہدایتکار واپسی کر رہے ہیں یعنی ’اے دل ہے مشکل‘ میں ایشوریا رائے بچن، رنبیر کپور، انوشکا شرما اور فواد خان جیسے ستارے ہیں اور یہ لوگوں کو سکرین تک کھینچ کر لا سکتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Akshay Kumar twitter
Image caption اکشے کمار کو دیکھنے کے لیے لوگ سینما گھروں تک جاتے ہیں جس کا ثبوت ہے ’ایئرلفٹ‘ اور ’ہاؤس فل 3‘ کی کامیابی۔ ایسے میں ان کی فلم ’رستم‘ کا مستقبل بھی روشن لگتا ہے

’باجي راؤ مستانی‘ کے بعد سپر ہٹ ہیرو بن چکے رنویر سنگھ اس سال یش راج بینر کی فلم ’بےفكرے‘ میں نظر آئیں گے۔ سنہ 2008 کے بعد پہلی مرتبہ کسی فلم کی ہدایات دینے والے آدتیہ چوپڑا کی اس فلم کے سپرہٹ ہونے کی ابھی سے امید کی جا رہی ہے۔

اس سال کا سب سے بڑا دھماکہ عامر خان کی فلم ’دنگل‘ سے ہوگا جو 23 دسمبر کو ریلیز ہو گی۔ اس فلم کے بارے میں لمبے چوڑے دعوے کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ عامر کا ریکارڈ ہی سب کہہ دیتا ہے۔

’دھوم 3‘ اور ’پی کے‘ کے تین، تین سو کروڑ کے بعد عامر کی اس فلم سے سال کے آخر میں فلمی صنعت کو ایک بار پھر کئی سو کروڑ کی آمدن کی امید ہے اور وہ کہتے ہیں نا کہ انت بھلا تو سب بھلا!

اسی بارے میں