جاپانی شہنشاہ ’دستبردار ہو رہے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption بی بی سی کے نامہ نگار سٹیو ایونز کا کہنا ہے کہ اکی ہیتو 200 برس میں اپنے عہدے سے دستبردار ہونے والے پہلے جاپانی بادشاہ ہوں گے

جاپان کے سرکاری ٹی وی چینل این ایچ کے کا کہنا ہے کہ ملک کے شہنشاہ اکی ہیتو اگلے برسوں میں اپنے عہدے سے دستبردار ہو جائیں گے۔

گذشتہ برسوں میں 82 سالہ شہنشاہ کی طبیعت ناساز رہی ہے۔

شہنشاہ اکی ہیتو 27 سالوں سے جاپان کے شہنشاہ ہیں اور ان کی دستبرداری جدید جاپان کے لیے ایک بےمثال قدم ہو گا۔

ان کے سب سے بڑے بیٹے 56 سالہ شہزادے ناروہیتو اپنے والد کے بعد ان کے جانشین ہوں گے۔

جاپانی شہنشہاہ کا کردار زیادہ تر رسمی رہا ہے لیکن دوسری عالمی جنگ کے دوران ملک میں پائی جانے والی جارحانہ قوم پرستی سے شاہی خاندان کے نام کو کامیابی سے الگ تھلگ کرنے کی وجہ سے ان کا بہت احترام کیا جاتا ہے۔

ملک کے دارالحکومت ٹوکیو میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار سٹیو ایونز کا کہنا ہے کہ شہنشاہ اکی ہیتو 200 برسوں میں اپنے عہدے سے دستبردار ہونے والے پہلے شہنشاہ ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شہنشاہ کی دستبرداری ایک ایسے ملک کے لیے بہت اہم بات ہے جس کے شہریوں کو اپنے شہنشاہوں کو بہت کم دیکھنے یا سننے کا موقع ملتا ہے

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ شہنشاہ نے 1989 میں اپنے والد ہیروہیتو کے بعد قیادت سنبھالی تھی، جنھیں ملک میں ایک جیتے جاگتے خدا کا درجہ دیا جاتا تھا۔

لیکن امریکہ نے ان سے ان کا یہ کردار اس وقت ختم کر دیا تھا جب اس نے دوسری عالمی جنگ میں فتح حاصل کرنے کے بعد جاپان کا نیا آئین بنایا تھا۔

شہنشاہ اکی ہیتو کی سنہ 2003 میں پروسٹیٹ کے سرطان کی سرجری ہوئی تھی اور چار سال قبل ان کا ہارٹ بائی پاس آپریشن بھی کیا گیا تھا۔

سنہ 2011 میں فوکوشیما میں تباہ کن زلزلہ اور سونامی آنے کے بعد انھوں نے ایک غیر معمولی اقدام کے طور پر ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کیا تھا۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسے ملک کے لیے بہت اہم بات ہے جس کے شہریوں کو اپنے شہنشاہوں کو بہت کم دیکھنے یا سننے کا موقع ملتا ہے۔