بڑوں کو بچہ بنانے والی بینچیں

کرس بینگل کار کمپنی بی ایم ڈبلیو میں چیف آف ڈیزائن کی حیثیت سے 17 سال کام کرنے کے بعد نقلِ مکانی کر کے 2009 میں اٹلی کے ایک چھوٹے سے شہر کلیویسانا منتقل ہو گئے۔ یہ ان کے لیے بڑی تبدیلی تھی لیکن اس کا اثر کلیویسانا پر بھی پڑا۔

کرس امیروں کے لیے پرتعیش گاڑیاں بناتے بناتے اکتا گئے تھے اور کوئی ایسی چیز بنانا چاہتے تھے جو سب کے لیے ہو۔ انھوں نے سوچا کہ کیوں نہ ایک ایسی بینچ بنائی جائے جو پارک میں پڑی ہوئی عام بینچوں سے بہت بڑی ہو۔ چنانچہ انھوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ مل کر دا بِگ بینچ کمپنی پروجیکٹ شروع کر دیا۔

یہ پروجیکٹ عوامی مقامات پر رنگین بینچیں نصب کرتا ہے جہاں بیٹھ کر آپ فطرت کے دلکش نظاروں سے محظوظ ہو سکتے ہیں۔ یہ بینچیں اتنی بڑی ہیں کہ جب آپ ان پر بیٹھتے ہیں تو آپ کی ٹانگیں لٹک رہی ہوتی ہیں اور آپ ایک بار پھر خود کو بچہ محسوس کرتے ہیں اور دنیا کی رنگینیوں کو ایک نئی نظر سے دیکھتے ہیں۔

ان بینچوں پر متعدد لوگ ایک ساتھ بیٹھ سکتے ہیں اور دوستوں سے گپ شپ لگا سکتے ہیں۔

اب تک کل 19 بینچیں نصب کی جا چکی ہیں، جن میں سے بیشتر شمال مغربی اٹلی کے پہاڑی علاقے پیدرمونت میں ہیں۔ لیکن ایسی کوئی ایپ نہیں بنائی گئی جس کی مدد سے آپ انھیں تلاش کر سکیں۔ اس پروجیکٹ کا مقصد ہی یہی ہے کہ آپ انھیں خزانے کی تلاش کی طرح ازخود دریافت کریں۔

اینجیلو اور ڈاریا وینس سے ان بینچوں کی تلاش میں آئے ہیں۔ اینجیلو کہتے ہیں: ’یہ چھپے ہوئے مقامات پر ہیں اور انھیں ڈھونڈنا آسان نہیں ہے۔ میرا خیال تھا کہ یہ سڑک سے بہت نزدیک ہوں گی لیکن اب آپ کو انھیں ڈھونڈنا پڑتا ہے جو اچھی بات ہے۔‘

وہ کہتے ہیں: ’یہ بہت عمدہ خیال ہے کیونکہ آپ خود منظر کا حصہ بن جاتے ہیں۔ آپ ان پر بیٹھ کر سوال کرتے ہیں، ’میں اس قدر چھوٹا کیوں ہو گیا ہوں؟‘ یہاں آپ کو احساس ہوتا ہے کہ آپ اتنے اہم نہیں ہیں جتنا خود کو سمجھتے ہیں۔‘

رینالڈا کو بینچیں ڈھونڈنے کے لیے زیادہ دور نہیں جانا پڑتا کیوں کہ ان میں سے ایک ان کے ہوٹل کے احاطے میں واقع ہے۔ انھوں نے کہا: ’یہ بات درست ہے کہ جب آپ ان پر چڑھتے ہیں تو ایک بار پھر خود کو بچے کی مانند محسوس کرتے ہیں۔‘

ایک اور سیاح پاولو کہتے ہیں: ’جدید آرٹ کی اکثر سمجھ نہیں آتی، لیکن یہاں پیدا ہونے والے تاثرات سب کے لیے یکساں ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ کوئی کہے، مجھے اس میں شیر نظر آ رہا ہے اور کوئی دوسرا کہے، مجھے چیتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ سب کے لیے ہے اور یہی اس کی کامیابی ہے۔‘

البا شہر میں یہ نیلی بینچ سماعت سے محروم افراد کی تنظیم نے نصب کی ہے۔

کوراڈو اور ان کے ساتھیوں نے چلتے چلتے یہ بینچیں دریافت کیں اور پھر 40 سماعت سے محروم افراد پر مشتمل ان کی تنظیم نے ایک بینچ خود بنانے کا فیصلہ کیا۔

کوراڈو کو امید ہے کہ اس جگہ پر پائی جانے والی خاموشی سے لوگوں کو سماعت سے محروم افراد کی کیفیت سمجھنے میں مدد ملے گی۔

’لوگ یہاں آئیں اور بات کرنے یا گانے کی کوشش نہ کریں اور محسوس کریں کہ سماعت سے محروم ہونا کیا معنی رکھتا ہے۔ یہ جگہ فطرت سے منسلک ہے اور آپ یہاں آتے ہیں اور آپ کو کچھ سنائی نہیں دیتا۔‘

یہ سفید بینچ توریون ایسوسی ایشن نے ویزا ڈی ایلبا نامی گاؤں میں تعمیر کی تھی۔ یہ بینچ ایک پہاڑی کی چوٹی پر بنائی گئی ہے جہاں سے سارا گاؤں دکھائی دیتا ہے۔

اسی بارے میں